صحیح مسلم حدیث ۶۶۹۹ - عورتوں کی دینی تعلیم اور صبر

عورتوں کی تعلیم اور اولاد کے فوت ہونے پر صبر کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۹۹

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ذَهَبَ الرِّجَالُ بِحَدِيثِكَ ، فَاجْعَلْ لَنَا مِنْ نَفْسِكَ يَوْمًا نَأْتِيكَ فِيهِ تُعَلِّمُنَا مِمَّا عَلَّمَكَ اللَّهُ ، قَالَ : اجْتَمِعْنَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا ، فَاجْتَمَعْنَ فَأَتَاهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَعَلَّمَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ ، ثُمَّ قَالَ : " مَا مِنْكُنَّ مِنَ امْرَأَةٍ تُقَدِّمُ بَيْنَ يَدَيْهَا مِنْ وَلَدِهَا ثَلَاثَةً إِلَّا كَانُوا لَهَا حِجَابًا مِنَ النَّارِ " ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ : وَاثْنَيْنِ ، وَاثْنَيْنِ ، وَاثْنَيْنِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَاثْنَيْنِ ، وَاثْنَيْنِ ، وَاثْنَيْنِ .

ابو سعید خدری روایت:

ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ساری باتیں آپ کی مرد ہی سنا کرتے ہیں تو ہمارے لیے بھی ایک دن مقرر کیجئیے جس دن ہم آپ کے پاس آیا کریں اور آپ ہم کو وہ باتیں سکھا دیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو سکھلائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا، فلاں دن تم جمع ہونا۔“وہ جمع ہوئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، پھر فرمایا: ”تم میں سے جس عورت نے اپنے آگے تین بچے بھیجے (یعنی تین بچے اس کے مر گئے) تو وہ اس کی آڑ ہو جائیں گے جہنم سے۔“ ایک عورت بولی: اور دو بچے، دو بچے، دو بچے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور دو بچے، دو بچے، دو بچے۔“ (یعنی ان کا بھی یہی حکم ہے)۔

صحیح مسلم حدیث ۶۶۹۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مرد آپ کی باتیں سن لیتے ہیں، ہمارے لیے بھی ایک دن مقرر کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دن مقرر فرمایا، عورتیں جمع ہوئیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اللہ کی سکھائی ہوئی باتیں سکھائیں۔ پھر فرمایا کہ جس عورت نے اپنے آگے تین بچے بھیجے، یعنی اس کے تین بچے فوت ہوئے، وہ اس کے لیے جہنم سے آڑ بن جائیں گے۔ ایک عورت نے دو بچوں کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو کے بارے میں بھی یہی فرمایا۔ یہ حدیث دو اہم باتیں سکھاتی ہے: عورتوں کی دینی تعلیم کی اہمیت، اور اولاد کی وفات پر صبر کرنے والوں کے لیے امید۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • عورتوں کے لیے دینی تعلیم حاصل کرنا اہم ہے۔
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کے سوال کا خیال رکھا۔
  • اولاد کی وفات پر صبر کرنے والی عورت کے لیے بشارت ہے۔
  • دین سیکھنے کے لیے سوال کرنا اچھی بات ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں