صحیح مسلم حدیث ۶۶۹۵ - دو لڑکیوں کی پرورش کی فضیلت
دو بیٹیوں کی پرورش کی حدیث: قیامت کے دن نبی صلى الله عليه وسلم کے ساتھ
صحیح مسلم : ۶۶۹۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۹۵
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ عَالَ جَارِيَتَيْنِ حَتَّى تَبْلُغَا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَا وَهُوَ ، وَضَمَّ أَصَابِعَهُ " .
سیدنا انس بن مالک روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص دو لڑکیوں کو پالے ان کے جوان ہونے تک قیامت کے دن، میں اور وہ اس طرح سے آئیں گے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو ملایا (یعنی میرا اس کا ساتھ ہو گا قیامت کے دن، مسلمانوں کو چاہیے کہ اگر خود اس کی لڑکیاں ہوں تو خیر ورنہ دو یتیم لڑکیوں کو پالے اور جوان ہونے پر ان کا نکاح کر دے تاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ اس کو نصیب ہو)۔
صحیح مسلم حدیث ۶۶۹۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص دو لڑکیوں کو ان کے بالغ ہونے تک پالے، قیامت کے دن میں اور وہ اس طرح آئیں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں ملائیں۔ حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ لڑکیوں کی پرورش، دیکھ بھال اور ان کی ذمہ داری اٹھانا بڑی نیکی ہے۔ یہاں شرط یہ بیان ہوئی ہے کہ وہ انہیں بالغ ہونے تک پالے۔ اس میں روزمرہ خرچ، حفاظت، خیال اور اچھی تربیت کا مفہوم آتا ہے، مگر ہمیں حدیث کے الفاظ ہی تک رہنا چاہیے۔ یہ روایت بیٹیوں کے بارے میں مثبت دینی سوچ دیتی ہے اور بتاتی ہے کہ ان کی پرورش معمولی کام نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دو لڑکیوں کی پرورش کرنا بڑی فضیلت والا عمل ہے۔
- اولاد کی ذمہ داری بالغ ہونے تک سنبھالنا قابل قدر ہے۔
- بیٹیوں کو محبت اور خیال کے ساتھ پالنا دینی نیکی ہے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عمل کی خاص فضیلت بیان فرمائی۔
