صحیح مسلم حدیث ۶۷۰۸ - روحیں جھنڈوں کی طرح ہیں
روحیں جھنڈوں کی طرح ہیں: محبت اور مزاج کی حدیث
صحیح مسلم : ۶۷۰۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۷۰۸
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ ، فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ ، وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روحوں کے جھنڈ کے جھنڈ ہیں، پھر جنہوں نے ان میں سے ایک دوسرے کی پہچان کی تھی وہ دنیا میں بھی دوست ہوتی ہیں اور جو وہاں الگ تھیں یہاں بھی الگ رہتی ہیں۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۷۰۸ کا خلاصہ
یہ حدیث انسانوں کے دلوں کی قربت اور دوری کو بہت مختصر مگر گہری بات میں بیان کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ روحیں جھنڈ کے جھنڈ ہیں۔ جن روحوں نے ایک دوسرے کو پہچانا، وہ دنیا میں بھی آپس میں مانوس ہوتی ہیں، اور جن میں اجنبیت رہی، وہ دنیا میں بھی الگ رہتی ہیں۔ اس حدیث سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ بعض لوگوں سے دل جلد مل جاتا ہے اور بعض سے فاصلہ رہتا ہے۔ مگر اس سے کسی پر بے جا حکم لگانا درست نہیں، کیونکہ حدیث صرف روحوں کی الفت اور اختلاف کا اصول بیان کرتی ہے۔ روحوں کی حدیث، دلوں کی محبت، اور انسانوں کی فطری مناسبت جیسے موضوعات اس روایت میں آتے ہیں۔ یہ ہمیں تعلقات کو سمجھنے میں نرم انداز دیتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کچھ دل فطری طور پر ایک دوسرے سے مانوس ہو جاتے ہیں۔
- روحوں کی پہچان اور اجنبیت کا اثر دنیا کے تعلقات میں ظاہر ہو سکتا ہے۔
- ہر تعلق کو نرمی اور سمجھ کے ساتھ دیکھنا چاہیے۔
- حدیث انسانوں کے باہمی میل جول کا ایک لطیف پہلو بیان کرتی ہے۔
