صحیح مسلم حدیث ۶۷۰۹ - لوگ کانوں کی طرح ہیں اور روحوں کی الفت
لوگ کانوں کی طرح ہیں: فہم، خوبی اور روحوں کی مناسبت
صحیح مسلم : ۶۷۰۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۷۰۹
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، بِحَدِيثٍ يَرْفَعُهُ ، قَالَ : " النَّاسُ مَعَادِنُ كَمَعَادِنِ الْفِضَّةِ وَالذَّهَبِ ، خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ ، إِذَا فَقُهُوا وَالْأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ ، فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ ، وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کی بھی مثال ایسی ہے جیسے کانوں کی سونے اور چاندی کی۔ جاہلیت کے زمانے میں جو لوگ بہتر تھے، اسلام کے زمانے میں بھی وہی بہتر ہیں (یعنی جو اس وقت میں شریف اور نیک ذات اور خوش خلق تھے یا شجاع اور بہادر تھے وہ اسلام میں بھی ایسے ہیں) جب سمجھدار ہوں اور روحوں کے جھنڈ، جھنڈ الگ ہیں، پھر جن روحوں کو ایک دوسرے سے وہاں پہچان تھی دنیا میں بھی ان میں الفت ہوئی اور جو وہاں غیر تھیں وہ یہاں بھی غیر رہیں۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۷۰۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی مثال سونے اور چاندی کی کانوں جیسی دی۔ مطلب یہ ہے کہ لوگوں میں صلاحیتیں، مزاج اور خوبیاں مختلف ہوتی ہیں۔ جو لوگ جاہلیت کے زمانے میں اچھے تھے، وہ اسلام میں بھی اچھے ہو سکتے ہیں، جب وہ دین کی سمجھ حاصل کر لیں۔ اس کے ساتھ روحوں کا مضمون بھی آیا کہ روحیں جھنڈ کے جھنڈ ہیں؛ جن میں پہچان ہوتی ہے وہ ملتی ہیں، اور جن میں اجنبیت ہوتی ہے وہ الگ رہتی ہیں۔ اس حدیث میں انسانی قدر، دین کی سمجھ، اور روحوں کی الفت تینوں باتیں جمع ہیں۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ کسی کی اصل خوبی دین کی سمجھ کے ساتھ بہتر رخ اختیار کر سکتی ہے۔ روحوں کی حدیث اور لوگ کانوں کی طرح ہیں، دونوں مشہور سرچ موضوعات اسی روایت سے جڑے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- لوگوں میں صلاحیتیں اور خوبیاں مختلف ہوتی ہیں۔
- دین کی سمجھ انسان کی خوبی کو صحیح رخ دیتی ہے۔
- روحوں کی مناسبت انسانوں کے تعلقات میں اثر رکھتی ہے۔
- اسلام میں فضیلت کا تعلق فہم اور درست سمت سے جڑا ہے۔
