صحیح مسلم حدیث ۶۷۲۱ - نیک عمل پر تعریف مومن کے لیے خوشخبری
نیک آدمی کی تعریف: مومن کے لیے فوری خوشخبری
صحیح مسلم : ۶۷۲۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۷۲۱
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَي ، قَالَ يَحْيَي : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يَعْمَلُ الْعَمَلَ مِنَ الْخَيْرِ وَيَحْمَدُهُ النَّاسُ عَلَيْهِ ؟ قَالَ : تِلْكَ عَاجِلُ بُشْرَى الْمُؤْمِنِ " . ح
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا آپ کیا فرماتے ہیں اس شخص کے باب میں جو اچھےاعمال کرتا ہے اور لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بالفعل خوشخبری ہے مومن کو۔“ (یعنی آخرت میں جو ثواب اور اجر ہے وہ تو الگ ہے یہ دنیا ہی میں خوشی ہے اس کے لیے کہ لوگ اس کی تعریف کر تے ہیں)۔
صحیح مسلم حدیث ۶۷۲۱ کا خلاصہ
یہ حدیث نیک آدمی کی تعریف کے بارے میں بہت سادہ بات بتاتی ہے۔ سوال یہ تھا کہ ایک شخص اچھا عمل کرتا ہے اور لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں، تو اس کا کیا حکم ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مومن کے لیے فوری خوشخبری فرمایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر انسان خیر کا کام کر رہا ہو اور لوگوں کے دل میں اس کے لیے اچھی بات آ جائے، تو یہ بذات خود بری بات نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ عمل خیر ہو۔ حدیث میں ریا، دکھاوے یا شہرت مانگنے کی بات نہیں آئی؛ اس لیے بات کو اسی حد تک رکھنا چاہیے کہ نیکی پر لوگوں کی اچھی گواہی مومن کے لیے خوشی کی خبر بن سکتی ہے۔ اسی لیے “اچھے عمل کی تعریف”، “نیک آدمی کی تعریف” اور “عاجل بشارت” جیسے الفاظ اس حدیث کے اصل مضمون سے جڑے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نیکی کرنے والے کے لیے لوگوں کی اچھی تعریف خوشی کا سبب بن سکتی ہے۔
- حدیث میں تعریف کو اصل ثواب کا بدل نہیں کہا گیا، بلکہ فوری بشارت کہا گیا ہے۔
- عمل خیر ہو تو لوگوں کی اچھی گواہی مومن کے لیے امید کی بات بن سکتی ہے۔
