صحیح مسلم حدیث ۶۷۲۹ - رحم پر مقرر فرشتہ اور اللہ کا حکم
رحم پر مقرر فرشتہ: تخلیق انسان کی حدیث
صحیح مسلم : ۶۷۲۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۷۲۹
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ كُلْثُومٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي كُلْثُومٌ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، رَفَعَ الْحَدِيثَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّ مَلَكًا مُوَكَّلًا بِالرَّحِمِ إِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَخْلُقَ شَيْئًا بِإِذْنِ اللَّهِ لِبِضْعٍ وَأَرْبَعِينَ لَيْلَةً ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ .
حذیفہ بن اسید غفاری روایت:
ایک فرشتہ رحم پر مقرر ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کسی چیز کے پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ فرشتہ اللہ کے حکم سے چالیس راتوں سے کچھ زیادہ گزرنے پر اسے بناتا ہے۔ باقی حدیث اسی طرح ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۶۷۲۹ کا خلاصہ
یہ روایت سیدنا حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ سے ہے کہ رحم پر ایک فرشتہ مقرر ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کسی چیز کو پیدا کرنے کا ارادہ فرماتا ہے تو وہ فرشتہ اللہ کے حکم سے چالیس راتوں سے کچھ زیادہ کے بعد اسے بناتا ہے، پھر باقی مضمون اسی طرح بیان ہوا۔ اس حدیث میں مرکزی بات “رحم پر مقرر فرشتہ” ہے۔ یہ لفظ قاری کو سمجھاتا ہے کہ تخلیق انسان کوئی بے مقصد یا بے قابو عمل نہیں، بلکہ اللہ کے ارادے اور حکم کے ساتھ ہے۔ “رحم کا فرشتہ”، “تخلیق انسان حدیث” اور “تقدیر کا لکھا جانا” اس روایت کے قریب ترین سرچ الفاظ ہیں۔ چونکہ ترجمہ خود کہتا ہے کہ باقی حدیث اسی طرح ہے، اس لیے توضیح بھی اسی حد تک رکھی گئی ہے اور کوئی الگ حکم یا واقعہ شامل نہیں کیا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رحم پر فرشتہ مقرر ہونے کا ذکر آیا ہے۔
- فرشتہ اللہ کے حکم سے تخلیق کے عمل سے متعلق کام کرتا ہے۔
- چالیس راتوں سے کچھ زیادہ کے بعد بنانے کا بیان ہے۔
- حدیث تخلیق کو اللہ کے ارادے اور حکم سے جوڑتی ہے۔
