صحیح مسلم حدیث ۶۷۲۸ - نطفہ، فرشتہ اور بچے کی تقدیر

نطفہ چالیس رات: بچے کی تقدیر اور فرشتے کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۷۲۸

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَطَاءٍ ، أَنَّ عِكْرِمَةَ بْنَ خَالِدٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَا الطُّفَيْلِ حَدَّثَهُ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أَبِي سَرِيحَةَ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُذُنَيَّ هَاتَيْنِ ، يَقُولُ : " إِنَّ النُّطْفَةَ تَقَعُ فِي الرَّحِمِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ، ثُمَّ يَتَصَوَّرُ عَلَيْهَا الْمَلَكُ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَسِبْتُهُ ، قَالَ : الَّذِي يَخْلُقُهَا ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ أَذَكَرٌ أَوْ أُنْثَى ؟ فَيَجْعَلُهُ اللَّهُ ذَكَرًا أَوْ أُنْثَى ، ثُمَّ يَقُولُ : يَا رَبِّ أَسَوِيٌّ ، أَوْ غَيْرُ سَوِيٍّ ؟ فَيَجْعَلُهُ اللَّهُ سَوِيًّا ، أَوْ غَيْرَ سَوِيٍّ ، ثُمَّ يَقُولُ : يَا رَبِّ ، مَا رِزْقُهُ ، مَا أَجَلُهُ ، مَا خُلُقُهُ ؟ ثُمَّ يَجْعَلُهُ اللَّهُ شَقِيًّا أَوْ سَعِيدًا " .

ابن طفیل روایت:

میں داخل ہوا ابوسریحہ حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ پر، ابوسریحہ کہتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اپنے ان دونوں کانوں سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”نطفہ ماں کے پیٹ میں چالیس راتوں تک یوں ہی رہتا ہے، پھر فرشتہ اس پر اترتا ہے یعنی وہ فرشتہ جو اس کو پتلا بناتا ہے وہ کہتا ہے: اے پروردگار! یہ مرد ہو گا یا عورت؟ پھر اللہ تعالیٰ اس کو مرد کرتا ہے یا عورت۔ پھر فرشتہ کہتا ہے: اے پر وردگار! یہ پورا ہو یا ناقص؟ پھر اللہ تعالیٰ اس کو پورا کرتا ہے یا ناقص، پھر فرشتہ کہتا ہے:اے پروردگار! اس کی روزی کیا ہے؟ اس کی عمر کیا ہے؟ اس کے اخلاق کیسے ہیں؟ پھر اللہ تعالیٰ اس کو بدبخت کرتا ہے یا نیک بخت۔“

صحیح مسلم حدیث ۶۷۲۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں ابو سریحہ حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نطفہ چالیس راتوں تک رحم میں رہتا ہے، پھر فرشتہ اس پر آتا ہے۔ وہ اللہ سے پوچھتا ہے کہ یہ مرد ہو گا یا عورت، پورا ہو گا یا ناقص، اس کی روزی کیا ہے، عمر کیا ہے اور اس کے اخلاق کیسے ہوں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ اسے شقی یا سعید بناتا ہے۔ اس روایت میں “نطفہ چالیس رات”، “بچے کی تقدیر” اور “رزق عمر اخلاق” بہت واضح الفاظ ہیں۔ حدیث ہمیں یہ بتاتی ہے کہ انسان کی پیدائش اور اس سے جڑی بنیادی باتیں اللہ کے حکم کے تحت ہیں۔ یہاں ہمیں اضافی بحث نہیں کرنی چاہیے، بلکہ متن کے مطابق اتنا سمجھنا چاہیے کہ اللہ کی قدرت رحم کے اندر بھی جاری ہے اور فرشتہ اسی کے حکم سے کام کرتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نطفہ کے چالیس راتوں تک رحم میں رہنے کا ذکر آیا ہے۔
  • فرشتہ اللہ کے حکم سے مرد یا عورت اور پورا یا ناقص ہونے کے بارے میں سوال کرتا ہے۔
  • روزی، عمر اور اخلاق کا ذکر بھی اسی روایت میں ہے۔
  • حدیث اللہ کی قدرت اور اس کے حکم پر ایمان سکھاتی ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں