صحیح مسلم حدیث ۶۷۳۱ - عمل کرو، ہر ایک کے لیے راستہ آسان ہے
تقدیر اور عمل: عمل کرو، ہر ایک کے لیے آسانی ہے
صحیح مسلم : ۶۷۳۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۷۳۱
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : كُنَّا فِي جَنَازَةٍ فِي بَقِيعِ الْغَرْقَدِ ، فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَعَدَ وَقَعَدْنَا حَوْلَهُ وَمَعَهُ مِخْصَرَةٌ ، فَنَكَّسَ فَجَعَلَ يَنْكُتُ بِمِخْصَرَتِهِ ، ثُمَّ قَالَ : مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ إِلَّا وَقَدْ كَتَبَ اللَّهُ مَكَانَهَا مِنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ ، وَإِلَّا وَقَدْ كُتِبَتْ شَقِيَّةً أَوْ سَعِيدَةً " ، قَالَ : فَقَالَ رَجَلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفَلَا نَمْكُثُ عَلَى كِتَابِنَا وَنَدَعُ الْعَمَلَ ؟ فَقَالَ : مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ فَسَيَصِيرُ إِلَى عَمَلِ أَهْلِ السَّعَادَةِ ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ فَسَيَصِيرُ إِلَى عَمَلِ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ ، فَقَالَ : اعْمَلُوا ، فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ أَمَّا أَهْلُ السَّعَادَةِ ، فَيُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ أَهْلِ السَّعَادَةِ ، وَأَمَّا أَهْلُ الشَّقَاوَةِ فَيُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ ، ثُمَّ قَرَأَ : فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى { 5 } وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى { 6 } فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى { 7 } وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى { 8 } وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى { 9 } فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى { 10 } سورة الليل آية 5-10 .
سیدنا علی روایت:
ہم بقیع میں تھے (بقیع مدینہ منورہ کا قبرستان ہے) ایک جنازہ کے ساتھ، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے، ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد بیٹھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چھڑی تھی، آپ سر جھکا کر بیٹھے اور چھڑی سے زمین پر لکیریں کرنے لگے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے، کوئی جان ایسی نہیں ہے جس کا اللہ نے ٹھکانا نہ لکھ دیا ہو جنت میں یا دوزخ میں اور یہ نہ لکھ دیا ہو کہ وہ نیک بخت ہے یا بدبخت ہے۔“ایک شخص بولا:: یا رسول اللہ! پھر ہم اپنے لکھے پر کیوں بھروسا نہ کریں اور عمل کو چھوڑ دیں (یعنی تقدیر کے روبرو عمل کرنا بےفائدہ ہے جو قسمت میں ہے وہ ضرور ہو گا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو نیک بختوں میں سے ہے وہ نیکیوں کا کام شتابی کرے گا اور جو بدبختوں میں سے ہے وہ بدوں کا کام جلدی کرے گا۔“ اور فرمایا: ”عمل کرو ہر ایک کو آسانی دی گئی ہے لیکن نیکوں کو آسان کیا جائے گا نیکوں کے اعمال کرنا اور بدوں کو آسان کیا جائے گا بدوں کے اعمال کرنا۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی «فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى، وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى، فَسَنُیَسِّرُہُ لِلْیُسْرَى، وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى، وَکَذَّبَ بِالْحُسْنَى فَسَنُیَسِّرُہُ لِلْعُسْرَى» (۹۲ اللیل: ۵-۱۰) سو جس نے خیرات کی اور ڈرا اور بہتر دین (یعنی اسلام کو سچا جانا) سو اس پر ہم آسان کر دیں گے نیکی کرنا اور جو بخیل ہو اور بےپرواہ بنا اور نیک دین کو اس نے جھوٹا جانا تو اس پر ہم آسان کر دیں گے کفر کی سخت راہ۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۷۳۱ کا خلاصہ
یہ حدیث تقدیر اور عمل کے بارے میں ایک بہت اہم سوال کا جواب دیتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر جان کا ٹھکانا جنت یا دوزخ میں لکھا جا چکا ہے، اور اس کا نیک بخت یا بدبخت ہونا بھی لکھا گیا ہے۔ ایک شخص نے پوچھا کہ پھر ہم عمل چھوڑ کر لکھے ہوئے پر بھروسا کیوں نہ کریں؟ جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف فرمایا: عمل کرو، ہر ایک کے لیے وہ راستہ آسان کیا جاتا ہے جس کی طرف وہ جاتا ہے۔ پھر سورۃ اللیل کی آیات پڑھی گئیں جن میں دینے، تقویٰ اور تصدیق کے مقابل بخل، بے پرواہی اور تکذیب کا ذکر ہے۔ اس لیے “تقدیر اور عمل”، “اعملوا فکل میسر” اور “ہر شخص کے لیے آسانی” اس حدیث کے اصل سرچ الفاظ ہیں۔ متن کا پیغام یہ ہے کہ تقدیر پر ایمان عمل چھوڑنے کا بہانہ نہیں بنتا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- تقدیر پر ایمان عمل چھوڑنے کی اجازت نہیں دیتا۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کے جواب میں صاف فرمایا: عمل کرو۔
- ہر شخص کے لیے اس کے راستے کے کام آسان کیے جاتے ہیں۔
- سورۃ اللیل کی آیات عمل، تقویٰ، بخل اور تکذیب کا فرق بیان کرتی ہیں۔
