صحیح مسلم حدیث ۶۷۳۲ - تقدیر کے ساتھ عمل کا حکم
تقدیر لکھی ہے مگر عمل چھوڑنا نہیں: حدیث کی آسان سمجھ
صحیح مسلم : ۶۷۳۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۷۳۲
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي مَعْنَاهُ ، وَقَالَ : فَأَخَذَ عُودًا ، وَلَمْ يَقُلْ مِخْصَرَةً ، وَقَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ فِي حَدِيثِهِ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے لیکن اس میں ہے کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت کی۔
صحیح مسلم حدیث ۶۷۳۲ کا خلاصہ
یہ روایت اسی واقعے اور اسی مضمون کو ایک دوسری سند سے بیان کرتی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ چھڑی کے بجائے لکڑی کا ذکر آیا اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیات تلاوت فرمائیں۔ اصل سبق وہی ہے: تقدیر کا لکھا جانا بندے کے عمل کو ختم نہیں کرتا۔ سوال یہ تھا کہ اگر جنت یا دوزخ کا ٹھکانا لکھا جا چکا ہے تو عمل کیوں کیا جائے؟ جواب میں عمل کا حکم دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس روایت کا مرکزی لفظ “تقدیر اور عمل” ہے۔ اس حدیث کو پڑھ کر انسان کو نہ مایوس ہونا چاہیے اور نہ بے فکر۔ اسے وہی کرنا چاہیے جس کا حکم دیا گیا ہے: نیکی، تقویٰ اور سچائی کی طرف بڑھنا۔ “عمل کرو ہر ایک میسر ہے” اس حدیث کا سب سے عام سرچ جملہ بن سکتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- تقدیر پر ایمان عمل چھوڑنے کی اجازت نہیں دیتا۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کے جواب میں صاف فرمایا: عمل کرو۔
- ہر شخص کے لیے اس کے راستے کے کام آسان کیے جاتے ہیں۔
- سورۃ اللیل کی آیات عمل، تقویٰ، بخل اور تکذیب کا فرق بیان کرتی ہیں۔
