صحیح مسلم حدیث ۶۷۳۴ - تقدیر کا علم اور عمل کی ذمہ داری

تقدیر اور عمل کی ذمہ داری: مختصر مگر صاف حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۷۳۴

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، وَالْأَعْمَشِ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَيُحَدِّثُهُ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِنَحْوِهِ .

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔

صحیح مسلم حدیث ۶۷۳۴ کا خلاصہ

یہ روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اسی مضمون کو مختصر انداز میں بیان کرتی ہے۔ یہاں بھی اصل بات یہی ہے کہ انسان کا جنت یا جہنم سے متعلق معاملہ اللہ کے علم میں ہے، لیکن بندے کو عمل کا حکم دیا گیا ہے۔ حدیث میں تقدیر کا ذکر آتا ہے، مگر اس کے ساتھ عمل ترک کرنے کی اجازت نہیں آتی۔ اسی وجہ سے یہ روایت “تقدیر اور عمل” کے سوال کا سادہ جواب دیتی ہے۔ جو شخص سوچتا ہے کہ اگر سب لکھا ہوا ہے تو عمل کیوں کیا جائے، اسے اس حدیث کے الفاظ یاد رکھنے چاہییں: عمل کرو۔ ہر شخص کے لیے وہی چیز آسان کی جاتی ہے جس کے لیے وہ بنایا گیا۔ یہ بات دل میں ذمہ داری اور عاجزی دونوں پیدا کرتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • تقدیر پر ایمان عمل چھوڑنے کی اجازت نہیں دیتا۔
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کے جواب میں صاف فرمایا: عمل کرو۔
  • ہر شخص کے لیے اس کے راستے کے کام آسان کیے جاتے ہیں۔
  • سورۃ اللیل کی آیات عمل، تقویٰ، بخل اور تکذیب کا فرق بیان کرتی ہیں۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں