صحیح مسلم حدیث ۶۷۳۵ - قلم خشک ہو گئے مگر عمل کرو

قلم خشک ہو گئے: تقدیر اور عمل کا فائدہ

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۷۳۵

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : جَاءَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بَيِّنْ لَنَا دِينَنَا كَأَنَّا خُلِقْنَا الْآنَ ، فِيمَا الْعَمَلُ الْيَوْمَ ؟ أَفِيمَا جَفَّتْ بِهِ الْأَقْلَامُ وَجَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ ؟ أَمْ فِيمَا نَسْتَقْبِلُ ؟ قَالَ : لَا ، بَلْ فِيمَا جَفَّتْ بِهِ الْأَقْلَامُ وَجَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ ، قَالَ : فَفِيمَ الْعَمَلُ ، قَالَ زُهَيْرٌ : ثُمَّ تَكَلَّمَ أَبُو الزُّبَيْرِ بِشَيْءٍ لَمْ أَفْهَمْهُ ، فَسَأَلْتُ مَا قَالَ ؟ فَقَالَ : اعْمَلُوا ، فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ " .

سیدنا جابر روایت:

سراقہ بن مالک بن جعشم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارا دین بیان کیجئیے گویا ہم اب پیدا ہوئے ہم جو عمل کرتے ہیں تو اس مقصد کے لیے کرتے ہیں جس کو لکھ کر قلم سوکھ گئی اور تقدیر جاری ہو گئی یا اس مقصد کے لیے جو آگے ہونے والا ہے (اور پہلے سے اس کی نسبت کچھ قرار نہیں پا سکتا)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں بلکہ اس مقصد کے لیے عمل کرو جس کو لکھ کر قلم سوکھ گئی اور تقدیر جاری ہو چکی۔“سراقہ نے کہا: پھر عمل سے کیا فائدہ ہے؟ زہیر نے کہا: ابوالزبیر نے کچھ بات کہی جس کو میں نہیں سمجھ سکا، میں نے پوچھا: (لوگوں سے کیا کہا) انہوں نے کہا: ”عمل کرو ہر ایک شخص کے لیے آسان کیا گیا ہے۔“

صحیح مسلم حدیث ۶۷۳۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے بہت سیدھا سوال کیا کہ ہمارے اعمال اس چیز کے لیے ہیں جس کے بارے میں قلم خشک ہو چکے اور تقدیر جاری ہو چکی، یا آنے والی بات کے لیے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں، بلکہ اس چیز کے لیے جس پر قلم خشک ہو چکے اور تقدیر جاری ہو چکی۔ پھر جب عمل کے فائدے کا سوال آیا تو جواب کا خلاصہ یہی نقل ہوا کہ عمل کرو، ہر ایک شخص کے لیے آسان کیا گیا ہے۔ اس روایت کا مرکزی موضوع “تقدیر اور عمل کا فائدہ” ہے۔ متن ہمیں یہ نہیں کہتا کہ عمل بے فائدہ ہے، بلکہ سوال کے بعد بھی عمل کا حکم سامنے آتا ہے۔ اس لیے “قلم خشک ہو گئے حدیث”، “تقدیر جاری ہو چکی” اور “عمل کرو” اس حدیث کے مضبوط سرچ الفاظ ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • تقدیر جاری ہونے کا ذکر آیا ہے، مگر عمل چھوڑنے کا حکم نہیں آیا۔
  • سراقہ رضی اللہ عنہ کے سوال کا جواب عمل کی طرف لوٹتا ہے۔
  • ہر شخص کے لیے اس کا عمل آسان کیا گیا ہے۔
  • حدیث تقدیر کے سوال میں بھی عمل کی ضرورت واضح کرتی ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں