صحیح مسلم حدیث ۶۷۳۶ - ہر عامل کے لیے اس کا عمل آسان ہے
ہر عامل کے لیے اس کا عمل آسان: تقدیر کی حدیث
صحیح مسلم : ۶۷۳۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۷۳۶
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِهَذَا الْمَعْنَى وَفِيهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كُلُّ عَامِلٍ مُيَسَّرٌ لِعَمَلِهِ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اس میں یہ ہے کہ ہر ایک کام کرنے والے کے لیے اس کا کام آسان کیا گیا ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۶۷۳۶ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی حدیث کے معنی کو مزید صاف الفاظ میں بیان کرتی ہے کہ ہر عمل کرنے والے کے لیے اس کا کام آسان کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تقدیر کے مسئلے پر سوال ہو سکتا ہے، مگر جواب عمل چھوڑنا نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تقدیر کے باوجود عمل کی طرف رہنمائی فرمائی۔ اس حدیث میں “ہر عامل اپنے عمل کے لیے آسان کیا گیا” اہم جملہ ہے۔ عام سرچ میں لوگ اسے “تقدیر اور عمل حدیث” یا “ہر شخص کے لیے آسان کیا گیا” کے نام سے ڈھونڈتے ہیں۔ متن کے مطابق ہمیں اتنا ہی کہنا چاہیے کہ انسان کو اپنے عمل کی طرف متوجہ رہنا ہے، کیونکہ حدیث نے بحث کو عمل کی طرف واپس کیا ہے۔ یہ بات آدمی کو بے عملی کے بجائے ذمہ داری کا احساس دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہر عمل کرنے والے کے لیے اس کا کام آسان کیا گیا ہے۔
- تقدیر کا ذکر عمل چھوڑنے کا سبب نہیں بنتا۔
- حدیث سوال کو عملی ذمہ داری کی طرف لوٹاتی ہے۔
- بندے کو اپنے عمل پر توجہ دینی چاہیے۔
