صحیح مسلم حدیث ۶۷۶ - حیض کے خون والی روایت کی تائید
حیض کے خون کو صاف کرنے کی تائیدی روایت
صحیح مسلم : ۶۷۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۷۶
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمٍ ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ كلهم ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، مِثْلَ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيد .
ہشام بن عروہ سے اس سند کے ساتھ گزشتہ حدیث کی طرح روایت ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۶۷۶ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی حدیث کے مضمون کو اسی سند کے ساتھ بیان کرتی ہے۔ اس میں الگ نیا مسئلہ نہیں، بلکہ وہی بات نقل ہوئی ہے کہ اگر کپڑے پر حیض کا خون لگ جائے تو اسے کیسے صاف کیا جائے۔ پچھلی روایت میں ترتیب یہ آئی تھی کہ پہلے خون کو کھرچا جائے، پھر پانی ڈال کر ملا جائے، پھر دھویا جائے، پھر اسی کپڑے میں نماز پڑھی جائے۔ اس حدیث کا فائدہ یہ ہے کہ وہی مسئلہ دوسرے راویوں کے ذریعے بھی نقل ہوا۔ حیض کا خون، کپڑے کی پاکی اور نماز کے کپڑے سے متعلق سوالات میں یہ روایت پچھلی حدیث کے ساتھ مل کر سمجھ آتی ہے۔ اس میں کوئی زائد حکم شامل نہیں کیا گیا، بلکہ سابقہ مضمون ہی دہرایا گیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ روایت حیض کے خون کو صاف کرنے کے سابقہ طریقے کی تائید کرتی ہے۔
- ایک ہی مسئلہ مختلف راویوں سے نقل ہو سکتا ہے۔
- کپڑے کی پاکی کے لیے روایت میں بتائی گئی ترتیب کو سمجھنا چاہیے۔
- مختصر تائیدی روایت کو نیا مسئلہ بنا کر نہیں پھیلانا چاہیے۔
