صحیح مسلم حدیث ۶۷۶۱ - ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے
ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے: فطرت کی حدیث کا آسان مفہوم
صحیح مسلم : ۶۷۶۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۷۶۱
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كُلُّ إِنْسَانٍ تَلِدُهُ أُمُّهُ عَلَى الْفِطْرَةِ ، وَأَبَوَاهُ بَعْدُ يُهَوِّدَانِهِ ، وَيُنَصِّرَانِهِ ، وَيُمَجِّسَانِهِ ، فَإِنْ كَانَا مُسْلِمَيْنِ ، فَمُسْلِمٌ كُلُّ إِنْسَانٍ تَلِدُهُ أُمُّهُ يَلْكُزُهُ الشَّيْطَانُ فِي حِضْنَيْهِ إِلَّا مَرْيَمَ وَابْنَهَا " .
ترجمہ وہی ہے اتنا زیادہ ہے کہ اگر اس کے ماں باپ مسلمان ہوئے تو بچہ مسلمان رہتا ہے اور ہر ایک بچے کو جب اس کی ماں جنتی ہے تو شیطان اس کی کوکھوں میں ٹھونسا دیتا ہے مگر مریم اور ان کے بیٹے عیسیٰ علیہ السلام کو شیطان ٹھونسا نہ دے سکا۔
صحیح مسلم حدیث ۶۷۶۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی پیغام فطرت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ ہر انسان اپنی ماں سے فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کے والدین اس کی پرورش اور ماحول کے ذریعے اسے یہودی، عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ اگر والدین مسلمان ہوں تو بچہ مسلمان رہتا ہے۔ اس سے فطرت کی حدیث، بچے کی دینی تربیت، اور والدین کی ذمہ داری کا مضمون سامنے آتا ہے۔ حدیث میں یہ بھی آیا کہ ہر بچے کو پیدائش کے وقت شیطان چھوتا ہے، مگر مریم علیہا السلام اور ان کے بیٹے عیسیٰ علیہ السلام اس سے محفوظ رہے۔ یہاں اصل توجہ بچے کی اصل فطرت اور گھر کے اثر پر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہر بچہ اپنی اصل فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔
- والدین اور گھر کا ماحول بچے کے دینی رخ پر اثر ڈالتا ہے۔
- مریم علیہا السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کے لیے حدیث میں خاص استثنا بیان ہوا ہے۔
- بچے کی تربیت کو ہلکا معاملہ نہیں سمجھنا چاہیے۔
