صحیح مسلم حدیث ۶۷۶۲ - مشرکین کے بچوں کا معاملہ اللہ کے علم میں
مشرکین کے بچوں کی حدیث: اللہ بہتر جانتا ہے
صحیح مسلم : ۶۷۶۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۷۶۲
حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، وَيُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ أَوْلَادِ الْمُشْرِكِينَ ؟ فَقَالَ : اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: مشرکوں کے بچوں کا حال۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالٰی خوب جانتا ہے وہ بڑے ہو کر کیا عمل کرتے۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۷۶۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں مشرکین کے بچوں کے بارے میں سوال کیا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختصر اور صاف جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ وہ بڑے ہو کر کیا عمل کرتے۔ اس میں علم الٰہی کا سبق ہے۔ بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جن کا پورا فیصلہ اللہ کے علم اور حکمت سے متعلق ہوتا ہے۔ اس حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنی طرف سے حتمی حکم لگائے، بلکہ جو بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی اسی پر ٹھہرے۔ مشرکین کے بچوں کی حدیث، اللہ اعلم بما کانوا عاملین، اور بچوں کے انجام کے مسئلے میں یہی احتیاط سکھائی گئی ہے کہ اللہ کے علم کو سب سے اوپر رکھا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بعض غیبی معاملات کا پورا علم اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے۔
- دینی سوال میں وہی جواب کافی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا۔
- بچوں کے انجام کے بارے میں اپنی طرف سے قطعی بات کہنا مناسب نہیں۔
- اللہ تعالیٰ ہر ممکن عمل اور حال کو جانتا ہے۔
