صحیح مسلم حدیث ۶۷۶۶ - خضر علیہ السلام کے لڑکے کا واقعہ

خضر علیہ السلام نے لڑکے کو کیوں قتل کیا؟ حدیث کا سادہ مفہوم

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۷۶۶

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَقَبَةَ بْنِ مَسْقَلَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْغُلَامَ الَّذِي قَتَلَهُ الْخَضِرُ طُبِعَ كَافِرًا ، وَلَوْ عَاشَ لَأَرْهَقَ أَبَوَيْهِ طُغْيَانًا وَكُفْرًا " .

ابی بن کعب روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لڑکا جس کو خضر علیہ السلام نے قتل کیا کافر پیدا ہوا تھا (یعنی بڑا ہو کر کافر ہو جاتا) اور اگر جیتا تو اپنے ماں باپ کو شرارت اور کفر میں پھنسا دیتا۔“

صحیح مسلم حدیث ۶۷۶۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں اس لڑکے کا ذکر ہے جسے خضر علیہ السلام نے قتل کیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ لڑکا کافر پیدا کیا گیا تھا، یعنی اس کے بارے میں اللہ کا علم یہی تھا کہ وہ بڑا ہو کر کفر کی راہ اختیار کرے گا، اور اگر زندہ رہتا تو اپنے والدین کو سرکشی اور کفر میں پھنسا دیتا۔ اس روایت میں خضر علیہ السلام کا واقعہ، علم الٰہی، اور تقدیر کا مضمون آتا ہے۔ ہمیں اس حدیث سے یہ نہیں نکالنا چاہیے کہ عام انسان کسی کے بارے میں ایسا فیصلہ کر سکتا ہے۔ یہ خاص واقعہ ہے، جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا۔ اصل سبق یہ ہے کہ اللہ کا علم انسان کے ظاہر سے بہت آگے ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • خضر علیہ السلام کے لڑکے کا واقعہ خاص واقعہ ہے، عام قاعدہ نہیں۔
  • اللہ تعالیٰ مستقبل کے اعمال کو بھی جانتا ہے۔
  • والدین کے دین پر اولاد کے اثر کا ذکر اس روایت میں آیا ہے۔
  • ایسے واقعات کو اپنی رائے سے نہیں، حدیث کے الفاظ سے سمجھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں