صحیح مسلم حدیث ۶۷۶۷ - جنت اور جہنم کے لیے لوگ

بچے کو جنت کی چڑیا کہنا: حدیث کا محتاط سبق

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۷۶۷

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَتْ : " تُوُفِّيَ صَبِيٌّ ؟ فَقُلْتُ : طُوبَى لَهُ عُصْفُورٌ مِنْ عَصَافِيرِ الْجَنَّةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَوَ لَا تَدْرِينَ أَنَّ اللَّهَ خَلَقَ الْجَنَّةَ وَخَلَقَ النَّارَ ، فَخَلَقَ لِهَذِهِ أَهْلًا ، وَلِهَذِهِ أَهْلًا " .

عائشہ روایت:

ایک بچہ مر گیا۔ میں نے کہا: خوشی ہو اس کو تو جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہو گا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نہیں جانتی کہ اللہ تعالیٰ نے جنت کو پیدا کیا اور جہنم کو اور ہر ایک کے لیے علیحدہ علیحدہ لوگ بنائے۔“

صحیح مسلم حدیث ۶۷۶۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک بچے کے انتقال پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہوگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا کہ کیا تم نہیں جانتیں کہ اللہ نے جنت کو پیدا کیا اور جہنم کو پیدا کیا، اور اس کے لیے بھی لوگ بنائے اور اس کے لیے بھی لوگ بنائے۔ اس حدیث کا مرکزی مضمون تقدیر اور اللہ کا علم ہے۔ یہاں ہمیں زبان کی احتیاط سکھائی گئی ہے، خاص طور پر کسی فرد کے انجام کے بارے میں قطعی بات کرتے وقت۔ حدیث کا مطلب یہی ہے کہ جنت و جہنم کا آخری فیصلہ اللہ کے علم اور حکم سے ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • کسی فرد کے آخری انجام پر قطعی بات کرتے ہوئے احتیاط ضروری ہے۔
  • جنت اور جہنم اللہ کی مخلوق ہیں، اور اللہ ان کے اہل کو جانتا ہے۔
  • نیک گمان اچھی بات ہے، مگر غیبی فیصلہ اللہ کے سپرد ہے۔
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو محتاط انداز سکھایا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں