صحیح مسلم حدیث ۶۷۷۷ - قرآن پڑھو جب دل متفق ہوں

قرآن پڑھو جب دل متفق ہوں: اختلاف ہو تو رک جاؤ

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۷۷۷

حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا أَبُو قُدَامَةَ الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ جُنْدَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْرَءُوا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ عَلَيْهِ قُلُوبُكُمْ فَإِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ فَقُومُوا " .

جندب بن عبداللہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پڑھو قرآن کو جب تک تمہارے دل زبان زبان سے موافقت کریں اور جب تمہارے دل اور زبان میں اختلاف پڑے تو اٹھ کھڑے ہو۔“

صحیح مسلم حدیث ۶۷۷۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن پڑھو جب تک تمہارے دل اس پر متفق رہیں، پھر جب تم اس میں اختلاف کرو تو اٹھ کھڑے ہو۔ اس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ قرآن کی تلاوت اور سمجھ کا ماحول سکون، ادب اور اتفاق کا ہونا چاہیے۔ اگر مجلس بحث، ضد یا دلوں کی دوری میں بدلنے لگے تو رک جانا بہتر ہے۔ یہ حدیث قرآن پڑھنے کے آداب، اختلاف سے بچاؤ، اور دینی مجلس کے سکون کو بیان کرتی ہے۔ قرآن کو دلوں کو جوڑنے کے لیے پڑھا جائے، نہ کہ دلوں میں دوری پیدا کرنے کے لیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قرآن کی مجلس میں دلوں کا اتفاق اور سکون اہم ہے۔
  • اختلاف بڑھنے لگے تو بحث کو روک دینا بہتر ہے۔
  • قرآن کو جھگڑے کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔
  • دینی مجلس کا مقصد ہدایت اور فائدہ ہونا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں