صحیح مسلم حدیث ۶۷۷۸ - اختلاف میں قرآن کی مجلس روک دو
قرآن کی مجلس میں اختلاف ہو جائے تو کیا کریں؟
صحیح مسلم : ۶۷۷۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۷۷۸
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ جُنْدَبٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اقْرَءُوا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ عَلَيْهِ قُلُوبُكُمْ ، فَإِذَا اخْتَلَفْتُمْ فَقُومُوا " .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۶۷۷۸ کا خلاصہ
یہ روایت اسی نبوی ہدایت کو بیان کرتی ہے کہ قرآن پڑھتے رہو جب تک دلوں میں موافقت ہو، اور جب اختلاف ہو جائے تو اٹھ جاؤ۔ اس میں بہت عملی رہنمائی ہے۔ کبھی دینی گفتگو فائدہ دیتی ہے، مگر جب وہ ضد، بحث یا دل آزاری بن جائے تو فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہو سکتا ہے۔ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ قرآن کے ساتھ ادب کا تعلق صرف آواز یا الفاظ تک نہیں، بلکہ دلوں کے حال سے بھی ہے۔ قرآن کی تلاوت، قرآن فہمی، اور دینی گفتگو کا ماحول ایسا ہو کہ ایمان بڑھے، جھگڑا نہ بڑھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قرآن کی مجلس میں دلوں کی موافقت کا خیال رکھا جائے۔
- اختلاف شدت اختیار کرے تو رک جانا نبوی ہدایت ہے۔
- دینی گفتگو ضد میں بدل جائے تو فائدہ کم ہو جاتا ہے۔
- قرآن کے ساتھ ادب دل اور زبان دونوں سے مطلوب ہے۔
