صحیح مسلم حدیث ۶۷۷۹ - قرآن کو جھگڑے کا سبب نہ بناؤ

بچوں کو قرآن کے ادب کی تعلیم: اختلاف ہو تو رک جاؤ

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۷۷۹

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ ، قَالَ : قَالَ لَنَا جُنْدَبٌ وَنَحْنُ غِلْمَانٌ بِالْكُوفَةِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اقْرَءُوا الْقُرْآنَ ، بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا .

جندب روایت:

ابوعمران نے کہا سیدنا جندب رضی اللہ عنہ نے ہم سے بیان کیا اور ہم بچے تھے کوفہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہی جو اوپر گزرا۔

صحیح مسلم حدیث ۶۷۷۹ کا خلاصہ

اس روایت میں ابو عمران کہتے ہیں کہ جندب رضی اللہ عنہ نے کوفہ میں ہمیں یہ حدیث سنائی جب ہم بچے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کے ادب کی تعلیم کم عمر لوگوں کو بھی دی جاتی تھی۔ حدیث کا مضمون یہ ہے کہ قرآن پڑھو جب تک دل متفق رہیں، اور جب اختلاف ہو تو اٹھ جاؤ۔ اس میں بچوں کی دینی تربیت، قرآن کے آداب، اور اختلاف سے بچنے کا سبق ایک ساتھ ملتا ہے۔ یہ بات بھی سمجھ آتی ہے کہ قرآن صرف پڑھنے کی کتاب نہیں، بلکہ اسے پڑھنے کا انداز بھی اہم ہے۔ اگر بحث دلوں کو جدا کر رہی ہو تو مجلس ختم کرنا بہتر ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بچوں کو بھی قرآن کے آداب سکھانے چاہییں۔
  • قرآن کی مجلس کا مقصد دلوں کو جوڑنا ہے۔
  • اختلاف بڑھنے لگے تو بحث روک دینا بہتر ہے۔
  • صحابہ رضی اللہ عنہم دینی آداب کو اگلی نسل تک پہنچاتے تھے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں