صحیح مسلم حدیث ۶۷۸۰ - سخت جھگڑالو آدمی اللہ کو ناپسند
سخت جھگڑالو آدمی کی حدیث: ضدی بحث سے بچیں
صحیح مسلم : ۶۷۸۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۷۸۰
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَبْغَضَ الرِّجَالِ إِلَى اللَّهِ الْأَلَدُّ الْخَصِمُ " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے نزدیک، سب مردوں میں برا، وہ مرد ہے جو بڑا لڑاکا جھگڑالو ہو۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۷۸۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے نزدیک سب مردوں میں برا وہ ہے جو بڑا لڑاکا جھگڑالو ہو۔ اس حدیث کا موضوع جھگڑا، ضدی بحث، اور بد زبانی سے بچنا ہے۔ لوگ اسے الألد الخصم، جھگڑالو آدمی کی حدیث، اور بحث کرنے والے شخص کی حدیث کے نام سے تلاش کرتے ہیں۔ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ ہر بات میں لڑنا، اپنی ضد پر اڑے رہنا، اور دوسروں کو نیچا دکھانا پسندیدہ رویہ نہیں۔ حق بات کہنا ضروری ہے، مگر جھگڑالو مزاج انسان کو اللہ کے نزدیک ناپسند بنا سکتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سخت جھگڑالو مزاج اللہ کے نزدیک ناپسند ہے۔
- حق بات بھی اچھے انداز سے کہنی چاہیے۔
- ضد اور لڑائی دینی اور معاشرتی نقصان کا سبب بنتی ہے۔
- مسلمان کو زبان اور بحث کے انداز میں نرمی اختیار کرنی چاہیے۔
