صحیح مسلم حدیث ۶۷۸۱ - پچھلی امتوں کی اندھی پیروی
پچھلی امتوں کی پیروی حدیث: دین میں اندھی تقلید سے بچنے کی نصیحت
صحیح مسلم : ۶۷۸۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۷۸۱
حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَتَتَّبِعُنَّ سَنَنَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ ، حَتَّى لَوْ دَخَلُوا فِي جُحْرِ ضَبٍّ لَاتَّبَعْتُمُوهُمْ ، قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، آلْيَهُودَ ، وَالنَّصَارَى ، قَالَ : فَمَنْ " .
ابو سعید خدری روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”البتہ تم چلو گے اگلی امتوں کی راہوں پر (یعنی گناہوں میں اور دین کی مخالفت میں نہ یہ کہ کفر کرو گے) بالشت برابر بالشت کے اور ہاتھ برابر ہاتھ کے یہاں تک کہ اگر وہ گوہ کے سوراخ میں گھسیں تم بھی ان کے ساتھ گھسو گے۔“ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگلی امتوں سے مراد یہود اور نصاریٰ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور کون ہیں؟“
صحیح مسلم حدیث ۶۷۸۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ مسلمان اپنے دین میں سوچ سمجھ کر چلیں اور پچھلی امتوں کی اندھی پیروی نہ کریں۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ تم پہلی امتوں کے راستوں پر بالشت بہ بالشت اور ہاتھ بہ ہاتھ چلو گے، یہاں تک کہ اگر وہ گوہ کے سوراخ میں داخل ہوں تو تم بھی ان کے پیچھے چلو گے۔ صحابہ نے پوچھا کہ کیا اس سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: پھر اور کون؟ اس لیے “پچھلی امتوں کی پیروی حدیث” ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ ہر رواج، ہر طریقہ اور ہر سوچ کو صرف اس لیے نہ اپنایا جائے کہ لوگ اسے کر رہے ہیں۔ دین میں اصل حفاظت اللہ اور رسول صلى الله عليه وسلم کی رہنمائی کے ساتھ رہنے میں ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دین کے معاملے میں اندھی پیروی خطرناک راستہ بن سکتی ہے۔
- ہر مشہور طریقہ درست نہیں ہوتا؛ اسے دین کی رہنمائی کے ساتھ دیکھنا چاہیے۔
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے امت کو پہلے ہی خبردار کر دیا کہ پچھلی قوموں کی مشابہت سے بچا جائے۔
- یہ حدیث مسلمان کو اپنی دینی پہچان سنبھالنے کی یاد دہانی دیتی ہے۔
