صحیح مسلم حدیث ۶۷۷۶ - اللہ کی کتاب میں جھگڑے سے بچو
قرآن میں جھگڑا کرنے کی حدیث: اختلاف کو فتنہ نہ بناؤ
صحیح مسلم : ۶۷۷۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۷۷۶
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، قَالَ : كَتَبَ إِلَيَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ الْأَنْصَارِيُّ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، قَالَ : هَجَّرْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا ، قَالَ : فَسَمِعَ أَصْوَاتَ رَجُلَيْنِ اخْتَلَفَا فِي آيَةٍ ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ الْغَضَبُ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِاخْتِلَافِهِمْ فِي الْكِتَابِ " .
عبداللہ بن عمرو روایت:
ایک دن میں سویرے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا۔ آپ نے دو شخصوں کی آواز سنی جو ایک آیت میں جھگڑ رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے اور آپ کے چہرے پر غصہ معلوم ہوتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے پہلے لوگ تباہ ہوئے اللہ کی کتاب میں جھگڑا کرنے سے۔“ (جو نفسانیت اور فساد کی نیت سے ہو یا لوگوں کو بہکانے کے لیے لیکن مطلب کی تحقیق کے لیے اور دین کے احکام نکالنے کے لیے درست ہے۔ نووی رحمہ اللہ)۔
صحیح مسلم حدیث ۶۷۷۶ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کی آواز سنی جو ایک آیت کے بارے میں جھگڑ رہے تھے۔ آپ باہر تشریف لائے اور چہرے پر ناراضی ظاہر تھی۔ آپ نے فرمایا کہ تم سے پہلے لوگ اللہ کی کتاب میں اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ اس حدیث کا موضوع قرآن میں جھگڑا، اختلاف فی الکتاب، اور دینی ادب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کو نفسانی بحث، آواز بلند کرنے اور ضد کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔ سیکھنے کے لیے سوال الگ بات ہے، مگر جھگڑالو انداز دین کے لیے نقصان دہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قرآن کے بارے میں جھگڑالو انداز خطرناک ہے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے اختلاف پر ناراضی ظاہر فرمائی۔
- پچھلی امتوں کی ہلاکت سے عبرت لینی چاہیے۔
- دین سیکھنے میں ادب، نرمی اور حق کی طلب ضروری ہے۔
