صحیح مسلم حدیث ۶۷۸۴ - بال کی کھال نکالنے والوں کی تباہی

دین میں غلو حدیث: حد سے بڑھنے والوں کے لیے سخت تنبیہ

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۷۸۴

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، وَيَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ ، عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلَكَ الْمُتَنَطِّعُونَ ، قَالَهَا ثَلَاثًا " .

عبداللہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تباہ ہوئے بال کی کھال نکالنے والے۔“ (یعنی بے فائدہ موشگافی کرنے والے حد سے زیادہ بڑھنے والے تعصب کرنے والے) تین بار یہ فرمایا۔

صحیح مسلم حدیث ۶۷۸۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: “تباہ ہوئے بال کی کھال نکالنے والے”، اور یہ بات تین بار فرمائی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دین یا بات چیت میں بے جا سختی، حد سے بڑھی ہوئی موشگافی اور ایسا رویہ جس میں آدمی اصل بات چھوڑ کر غیر ضروری پیچیدگیوں میں پڑ جائے، پسندیدہ نہیں۔ “دین میں غلو حدیث” تلاش کرنے والے عموماً اسی تعلیم کو سمجھنا چاہتے ہیں کہ اسلام آسان، صاف اور متوازن دین ہے۔ یہاں حدیث کا پیغام یہ نہیں کہ علم حاصل نہ کیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ بے فائدہ بحث، ضد اور ضرورت سے زیادہ سخت روی آدمی کو نقصان دے سکتی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اسے تین بار دہرا کر اس کی سنگینی واضح فرمائی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دین میں بے جا سختی اور حد سے بڑھنا نقصان دہ ہے۔
  • غیر ضروری بحث اصل مقصد سے دور کر سکتی ہے۔
  • رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اس تنبیہ کو تین بار دہرا کر اس کی اہمیت بتائی۔
  • علم کے ساتھ اعتدال اور نرمی بھی ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں