سنن نسائی حدیث ۳۰۵۹ - دین میں غلو سے بچو
دین میں غلو سے بچو: رمی کی کنکریوں والی حدیث
سنن نسائی : ۳۰۵۹
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۰۵۹
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ حُصَيْنٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ الْعَقَبَةِ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ : " هَاتِ الْقُطْ لِي ، فَلَقَطْتُ لَهُ حَصَيَاتٍ هُنَّ حَصَى الْخَذْفِ فَلَمَّا وَضَعْتُهُنَّ فِي يَدِهِ ، قَالَ : بِأَمْثَالِ هَؤُلَاءِ وَإِيَّاكُمْ وَالْغُلُوَّ فِي الدِّينِ ، فَإِنَّمَا أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ الْغُلُوُّ فِي الدِّينِ " .
عبداللہ بن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عقبہ کی صبح مجھ سے فرمایا: اور آپ اپنی سواری پر تھے کہ ”میرے لیے کنکریاں چن دو“۔ تو میں نے آپ کے لیے کنکریاں چنیں جو چھوٹی چھوٹی تھیں کہ چٹکی میں آ سکتی تھیں جب میں نے آپ کے ہاتھ میں انہیں رکھا تو آپ نے فرمایا: ”ایسی ہی ہونی چاہیئے، اور تم اپنے آپ کو دین میں غلو سے بچاؤ۔ کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو ان کے دین میں غلو ہی نے ہلاک کر دیا ہے۔“
سنن نسائی حدیث ۳۰۵۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ عقبہ کی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ میرے لیے کنکریاں چن دو۔ انہوں نے چھوٹی چھوٹی کنکریاں چنیں جو چٹکی میں آ سکتی تھیں۔ جب وہ کنکریاں آپ کے ہاتھ میں رکھیں تو آپ نے فرمایا کہ ایسی ہی ہونی چاہئیں، اور دین میں غلو سے بچو، کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو دین میں غلو ہی نے ہلاک کیا۔ اس حدیث میں رمی جمرہ کی کنکریوں کا سائز بھی بیان ہوا اور ساتھ ہی عبادت میں حد سے بڑھنے سے بچنے کی نصیحت بھی آئی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رمی کے لیے چھوٹی کنکریاں چننے کا حکم اس روایت میں بیان ہوا ہے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دین میں غلو سے بچنے کی نصیحت کی۔
- عبادت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے پر رہنا چاہیے۔
- پہلے لوگوں کی ہلاکت کا سبب دین میں غلو بتایا گیا ہے۔
