سنن نسائی حدیث ۳۰۵۶ - جمرہ کبریٰ کی رمی
جمرہ کبریٰ کی سات کنکریاں اور تکبیر
سنن نسائی : ۳۰۵۶
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۰۵۶
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، فَقُلْتُ : أَخْبِرْنِي عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَفَعَ مِنْ الْمُزْدَلِفَةِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، وَأَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ الْعَبَّاسِ حَتَّى أَتَى مُحَسِّرًا حَرَّكَ قَلِيلًا ، ثُمَّ سَلَكَ الطَّرِيقَ الْوُسْطَى الَّتِي تُخْرِجُكَ عَلَى الْجَمْرَةِ الْكُبْرَى ، حَتَّى أَتَى الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَ الشَّجَرَةِ ، فَرَمَى بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ مِنْهَا ، حَصَى الْخَذْفِ رَمَى مِنْ بَطْنِ الْوَادِي " .
ابو جعفر محمد باقر روایت:
ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس گئے تو میں نے کہا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے بارے میں ہمیں بتائیں۔ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ سے سورج نکلنے سے پہلے چلے آپ نے فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھایا، یہاں تک کہ وادی محسر پہنچے، تو اونٹ کی رفتار آپ نے قدرے بڑھا دی، پھر آپ نے وہ درمیانی راستہ پکڑا جو تمہیں جمرہ کبریٰ کے پاس لے جا کر نکالے گا یہاں تک کہ آپ اس جمرہ کے پاس آئے جو درخت کے پاس ہے۔ آپ نے (وہاں پہنچ کر) سات ایسی چھوٹی کنکریاں ماریں جو انگوٹھے اور شہادت کی دونوں انگلیوں کے درمیان آ جائیں، ہر کنکری کے ساتھ آپ تکبیر کہہ رہے تھے، آپ نے وادی کی نشیب سے رمی کی۔
سنن نسائی حدیث ۳۰۵۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کی تفصیل بیان کی۔ آپ مزدلفہ سے سورج نکلنے سے پہلے چلے، فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کو پیچھے بٹھایا، وادی محسر پہنچ کر رفتار کچھ بڑھائی، پھر درمیانی راستہ اختیار کیا جو جمرہ کبریٰ تک لے جاتا تھا۔ وہاں آپ نے سات چھوٹی کنکریاں ماریں، ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہی، اور وادی کے نشیب سے رمی کی۔ یہ حدیث رمی جمرہ، کنکریوں کی تعداد، تکبیر، راستہ اور مزدلفہ سے منیٰ روانگی کی عملی ترتیب کو بہت واضح کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جمرہ کبریٰ کو سات چھوٹی کنکریاں مارنے کا ذکر ہے۔
- ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہنا اس روایت میں بیان ہوا ہے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ سے سورج نکلنے سے پہلے روانہ ہوئے۔
- وادی محسر میں رفتار قدرے بڑھانے اور درمیانی راستہ لینے کا ذکر آیا ہے۔
