سنن نسائی حدیث ۳۰۵۷ - رمی تک تلبیہ کہنا
جمرہ کی رمی تک تلبیہ جاری رکھنے کی حدیث
سنن نسائی : ۳۰۵۷
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۰۵۷
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، عَنْ سُفْيَانَ وَهُوَ ابْنُ حَبِيبٍ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ جُرَيْجٍ ، وَعَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ , عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنَّهُ كَانَ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ " .
فضل بن عباس روایت:
´فضل بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اونٹ پر سوار تھے، تو برابر تلبیہ پکارتے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ کی رمی کی۔
سنن نسائی حدیث ۳۰۵۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کا مشاہدہ بیان ہوا ہے۔ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اونٹ پر سوار تھے، اور بیان کرتے ہیں کہ آپ تلبیہ پکارتے رہے یہاں تک کہ جمرہ کی رمی کی۔ یہ روایت حج کے دوران تلبیہ کے وقت کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ خاص طور پر یہ بات سامنے آتی ہے کہ مزدلفہ سے منیٰ کے سفر میں تلبیہ جاری رہا اور رمی جمرہ تک پہنچا۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع تلبیہ، رمی جمرہ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عملی حج ہے۔ الفاظ کم ہیں مگر حاجی کے لیے عمل بہت واضح ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ کی رمی تک تلبیہ کہتے رہے۔
- فضل بن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ عمل قریب سے دیکھا۔
- حج میں تلبیہ کا تعلق رمی جمرہ تک اس روایت میں بیان ہوا ہے۔
- صحابہ رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کی جزئیات نقل کیں۔
