سنن نسائی حدیث ۳۰۴۹ - مزدلفہ میں تلبیہ
مزدلفہ میں لبیک اللہم لبیک کی حدیث
سنن نسائی : ۳۰۴۹
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۰۴۹
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ فِي حَدِيثِهِ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ كَثِيرٍ وَهُوَ ابْنُ مُدْرِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ وَنَحْنُ بِجَمْعٍ ، سَمِعْتُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ يَقُولُ فِي هَذَا الْمَكَانِ : " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
ہم مزدلفہ میں تھے کہ میں نے اس ذات کو جس پر سورۃ البقرہ نازل ہوئی (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) اس جگہ «لبيك اللہم لبيك» کہتے سنا۔
سنن نسائی حدیث ۳۰۴۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مزدلفہ کا ایک عمل بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم مزدلفہ میں تھے، تو میں نے اس ذات کو جس پر سورۃ البقرہ نازل ہوئی، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی جگہ لبیک اللہم لبیک کہتے سنا۔ یہ روایت حج میں تلبیہ کی اہمیت کو بیان کرتی ہے۔ خاص طور پر مزدلفہ میں تلبیہ کہنا اس متن سے واضح ہوتا ہے۔ حدیث کے الفاظ مختصر ہیں، مگر حاجی کے لیے اس میں خوب رہنمائی ہے کہ حج کے سفر میں اللہ کی پکار اور لبیک کے الفاظ مسلسل دل کو عبادت کی طرف رکھتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مزدلفہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تلبیہ کہنا نقل ہوا ہے۔
- لبیک اللہم لبیک حج کے اہم اذکار میں سے ہے۔
- صحابہ رضی اللہ عنہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے اعمال کو غور سے دیکھتے تھے۔
- حج میں ذکر اور تلبیہ کا تعلق مقررہ مقامات کے ساتھ بھی نظر آتا ہے۔
