سنن نسائی حدیث ۳۰۶۰ - سکون اور چھوٹی کنکریاں
حج میں سکون اور رمی کی چھوٹی کنکریاں
سنن نسائی : ۳۰۶۰
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۰۶۰
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلنَّاسِ حِينَ دَفَعُوا عَشِيَّةَ عَرَفَةَ وَغَدَاةَ : " جَمْعٍ عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ " ، وَهُوَ كَافٌّ نَاقَتَهُ ، حَتَّى إِذَا دَخَلَ مِنًى فَهَبَطَ حِينَ هَبَطَ مُحَسِّرًا ، قَالَ : " عَلَيْكُمْ بِحَصَى الْخَذْفِ الَّذِي تُرْمَى بِهِ الْجَمْرَةُ " ، قَالَ : وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ بِيَدِهِ كَمَا يَخْذِفُ الْإِنْسَانُ .
فضل بن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے جس وقت وہ عرفہ کی شام اور مزدلفہ کی صبح کو چلے تو اپنی اونٹنی کو روک کر فرمایا: ”تم لوگ سکون و وقار کو لازم پکڑو“ یہاں تک کہ جب آپ منیٰ میں داخل ہوئے تو جس وقت اترے وادی محسر میں اترے، اور آپ نے فرمایا: ”چھوٹی کنکریوں کو جسے چٹکی میں رکھ کر تم مار سکو لازم پکڑو“، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے اشارہ کر رہے تھے، جیسے آدمی کنکری کو چٹکی میں رکھ کر مارتا ہے۔
سنن نسائی حدیث ۳۰۶۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں فضل بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو عرفہ کی شام اور مزدلفہ کی صبح روانگی کے وقت فرمایا کہ سکون و وقار لازم پکڑو۔ آپ اپنی اونٹنی کو روکے ہوئے تھے۔ پھر جب منیٰ میں داخل ہوئے اور وادی محسر میں اترے تو فرمایا کہ چھوٹی کنکریاں لازم پکڑو جن سے جمرہ کی رمی کی جاتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ بھی کیا جیسے آدمی چٹکی سے کنکری مارتا ہے۔ اس حدیث میں حج کے سفر کا ادب، سکون، اور رمی کے لیے مناسب کنکریوں کا بیان ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی میں سکون و وقار کی نصیحت کی گئی۔
- رمی کے لیے چھوٹی کنکریاں استعمال کرنے کا حکم آیا ہے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کے اشارے سے طریقہ بھی سمجھایا۔
- حج کے اعمال میں جلد بازی اور بے ترتیبی سے بچنے کا پیغام ملتا ہے۔
