سنن نسائی حدیث ۳۰۶۱ - رمی کی چھوٹی کنکریاں
رمی کے لیے چٹکی میں آنے والی کنکریاں
سنن نسائی : ۳۰۶۱
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۰۶۱
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ حُصَيْنٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ الْعَقَبَةِ وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى رَاحِلَتِهِ : " هَاتِ الْقُطْ لِي ، فَلَقَطْتُ لَهُ حَصَيَاتٍ هُنّ حَصَى الْخَذْفِ ، فَوَضَعْتُهُنَّ فِي يَدِهِ ، وَجَعَلَ يَقُولُ بِهِنَّ فِي يَدِهِ " , وَوَصَفَ يَحْيَى تَحْرِيكَهُنَّ فِي يَدِهِ بِأَمْثَالِ هَؤُلَاءِ .
عبداللہ بن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عقبہ کی صبح کو فرمایا اور آپ اپنی سواری کو روکے ہوئے تھے: ”آؤ میرے لیے کچھ کنکریاں چن دو“، تو میں نے آپ کے لیے کنکریاں چنیں۔ یہ اتنی چھوٹی تھیں کہ چٹکی میں آ جائیں، تو میں نے انہیں آپ کے ہاتھ میں لا کر رکھا، تو آپ انہیں اپنے ہاتھ میں حرکت دینے لگے۔ اور یحییٰ نے انہیں اپنے ہاتھ میں ہلا کر بتایا کہ اسی طرح کی کنکریاں یہ اتنی چھوٹی تھیں کہ چٹکی میں آ جائیں۔
سنن نسائی حدیث ۳۰۶۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عقبہ کی صبح اپنی سواری پر ٹھہرے ہوئے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ میرے لیے کچھ کنکریاں چن دو۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایسی چھوٹی کنکریاں چنیں جو چٹکی میں آ جاتی تھیں اور انہیں آپ کے ہاتھ میں رکھ دیا۔ روایت میں یہ بھی بیان ہوا کہ آپ انہیں ہاتھ میں حرکت دینے لگے، اور یحییٰ نے راویوں کو ان کنکریوں کی کیفیت ہاتھ میں ہلا کر سمجھائی۔ اس حدیث کا اصل موضوع رمی جمرہ کی کنکریوں کا سائز ہے، یعنی چھوٹی اور چٹکی میں آنے والی کنکریاں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رمی کے لیے چھوٹی کنکریاں چننے کا ذکر اس روایت میں آیا ہے۔
- کنکریوں کا سائز چٹکی میں آنے والی مقدار کے طور پر بیان ہوا ہے۔
- ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کنکریاں چنیں۔
- راوی نے کنکریوں کی کیفیت ہاتھ کے اشارے سے سمجھائی۔
