صحیح مسلم حدیث ۶۷۸۵ - علم کا اٹھنا اور جہالت کا پھیلنا

قیامت کی نشانیاں حدیث: علم کا اٹھنا اور جہالت کا پھیلنا

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۷۸۵

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ وَيَثْبُتَ الْجَهْلُ ، وَيُشْرَبَ الْخَمْرُ وَيَظْهَرَ الزِّنَا " .

انس بن مالک روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کی نشانیوں میں ہے کہ علم اٹھ جائے گا (یعنی دین کا علم لوگ کم حاصل کریں گے دنیا میں غرق ہو جائیں گے) اور جہالت قائم ہو جائے گی یا پھیل جائے گی اور شراب پی جائے گی اور زنا ظاہر کھلم کھلا ہو گا۔“

صحیح مسلم حدیث ۶۷۸۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے قیامت کی چند نشانیاں بیان فرمائیں: علم اٹھ جائے گا، جہالت قائم یا عام ہو جائے گی، شراب پی جائے گی اور زنا ظاہر ہو گا۔ “قیامت کی نشانیاں حدیث” میں یہ بات بہت صاف ہے کہ دینی علم کا کم ہونا ایک بڑا نقصان ہے، کیونکہ علم کم ہو تو اچھے اور برے کی پہچان بھی کمزور پڑتی ہے۔ حدیث میں شراب اور زنا کے ظاہر ہونے کا ذکر بھی آیا ہے، اس لیے یہ روایت مسلمان کو اپنے ماحول، اپنی عادتوں اور اپنی دینی سمجھ کا جائزہ لینے کی دعوت دیتی ہے۔ اس متن سے ہمیں اتنا ہی سمجھنا چاہیے کہ علم کی قدر، گناہوں سے بچاؤ اور جہالت سے دوری قیامت کی نشانیوں کے مقابل ایک سنجیدہ دینی رویہ ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دینی علم کا کم ہونا امت کے لیے نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔
  • جہالت پھیلنے سے گناہوں کو معمولی سمجھنے کا خطرہ بڑھتا ہے۔
  • شراب نوشی اور زنا کا ظاہر ہونا قیامت کی نشانیوں میں بیان ہوا ہے۔
  • مسلمان کو علم سیکھنے اور گناہ سے بچنے کی فکر رکھنی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں