صحیح مسلم حدیث ۶۷۹۷ - بغیر علم فتویٰ کا نقصان
بغیر علم فتویٰ حدیث: جاہل رہنماؤں سے بچنے کی نصیحت
صحیح مسلم : ۶۷۹۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۷۹۷
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وعبدة . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ كُلُّهُمْ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ ، ثُمَّ لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍ وَعَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ ، فَسَأَلْتُهُ فَرَدَّ عَلَيْنَا الْحَدِيثَ ، كَمَا حَدَّثَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اس میں اتنا زیادہ ہے کہ راوی حدیث نے کہا: میں نے ایک سال بعد دوبارہ عبداللہ سے اس حدیث کو پوچھا تو انہوں نے اسی طرح بیان کیا۔
صحیح مسلم حدیث ۶۷۹۷ کا خلاصہ
یہ روایت بھی اسی حدیث کے مضمون کو بیان کرتی ہے کہ علم لوگوں کے دلوں سے ایک دم نہیں نکالا جائے گا، بلکہ علماء کے اٹھ جانے سے علم اٹھے گا۔ پھر لوگ جاہلوں کو رہنما بنا لیں گے، وہ بغیر علم فتویٰ دیں گے، خود گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔ اس روایت میں یہ اضافہ بھی ہے کہ راوی نے ایک سال بعد دوبارہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے حدیث اسی طرح بیان کی۔ “بغیر علم فتویٰ حدیث” کا پیغام بہت واضح ہے: دین میں بات کرنے کے لیے علم چاہیے۔ اگر جاہل آدمی رہنما بن جائے تو اس کا غلط جواب صرف اس کی اپنی غلطی نہیں رہتا، بلکہ پوچھنے والوں تک بھی اثر پہنچاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دینی مسئلے میں بغیر علم جواب دینا خطرناک ہے۔
- علماء کے اٹھ جانے سے علم کی کمی پیدا ہوتی ہے۔
- روایت میں ایک سال بعد دوبارہ پوچھنے پر اسی حدیث کے بیان ہونے کا ذکر ہے۔
- دین میں رہنمائی کے لیے علم والے لوگوں کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔
