صحیح مسلم حدیث ۶۷۹۸ - علماء کے اٹھنے کا بیان
علماء کے اٹھ جانے کی حدیث: علم کی حفاظت کا سبق
صحیح مسلم : ۶۷۹۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۷۹۸
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُمْرَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي أَبِي جَعْفَرٌ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ .
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۶۷۹۸ کا خلاصہ
یہ روایت مذکورہ بالا حدیث کو ایک اور سند سے بیان کرتی ہے۔ اس کا مرکزی مضمون یہی ہے کہ علم لوگوں کے سینوں سے اچانک نہیں چھینا جائے گا، بلکہ علماء کے اٹھ جانے سے علم اٹھے گا۔ جب علم والے نہ رہیں گے تو لوگ جاہلوں کو آگے کر دیں گے، پھر وہ بغیر علم کے فتوے دیں گے اور گمراہی کا سبب بنیں گے۔ “علماء کے اٹھ جانے کی حدیث” ہمیں بتاتی ہے کہ علم صرف کتابوں کے نام یاد کرنے کا معاملہ نہیں، بلکہ صحیح سمجھ اور ذمہ دار رہنمائی بھی ہے۔ اس حدیث سے یہی سادہ بات نکلتی ہے کہ دین کے مسئلے میں اہل علم سے پوچھنا چاہیے اور لاعلمی کے باوجود جواب دینے کی عادت سے بچنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- علم کا تعلق اہل علم کی موجودگی اور صحیح رہنمائی سے ہے۔
- جاہل لوگوں کو دینی رہنما بنانا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
- بغیر علم فتویٰ دینے سے گمراہی پھیلتی ہے۔
- دینی سوال میں احتیاط اور اہل علم کی طرف رجوع ضروری ہے۔
