صحیح مسلم حدیث ۶۸۹۰ - ہر جانور کے شر سے پناہ

ہر جانور کے شر سے پناہ اور اللہ کی حفاظت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۸۹۰

وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا إِذَا أَخَذْنَا مَضْجَعَنَا أَنْ نَقُولَ بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ ، وَقَالَ : مِنْ شَرِّ كُلِّ دَابَّةٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا ،

ابوہریرہ روایت:

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہی جو اوپر گزری۔ اس میں یہ ہے کہ (پناہ مانگتا ہوں میں تیری) «مِنْ شَرِّ كُلِّ دَابَّةٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا» ہر جانور کے شر سے جس کی پیشانی تو تھامے ہوئے ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۶۸۹۰ کا خلاصہ

یہ روایت پچھلی دعا ہی کے مضمون کو بیان کرتی ہے، مگر اس میں ایک خاص لفظ آیا ہے: «مِنْ شَرِّ كُلِّ دَابَّةٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا» یعنی ہر جانور کے شر سے جس کی پیشانی تیرے قبضے میں ہے۔ اس سے سونے کی دعا میں اللہ کی قدرت اور حفاظت کا پہلو بہت واضح ہوتا ہے۔ انسان رات کو کمزور حالت میں ہوتا ہے، اسے معلوم نہیں کہ اردگرد کیا ہے، اس لیے وہ اللہ سے پناہ مانگتا ہے۔ یہ دعا ہمیں بتاتی ہے کہ جانور، مخلوق، حالات اور خطرات سب اللہ کے اختیار میں ہیں۔ ساتھ ہی دعا کے آخر میں قرض سے نجات اور فقر سے بچاؤ کی درخواست ہے۔ اس لیے یہ حفاظت کی دعا، قرض کی دعا اور اللہ پر توکل کی دعا تینوں معنی رکھتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ہر جاندار اللہ کے قبضے اور اختیار میں ہے۔
  • رات کو سوتے وقت اللہ سے حفاظت مانگنی چاہیے۔
  • قرض اور فقر سے بچاؤ کے لیے دعا کرنا درست ہے۔
  • دعا کے الفاظ میں معمولی فرق روایت کے مطابق بیان کرنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں