صحیح مسلم حدیث ۶۸۸۹ - قرض اور فقر سے نجات کی دعا
قرض اور فقر سے نجات کی دعا بستر پر جانے سے پہلے
صحیح مسلم : ۶۸۸۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۸۸۹
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، قَالَ : كَانَ أَبُو صَالِحٍ يَأْمُرُنَا إِذَا أَرَادَ أَحَدُنَا أَنْ يَنَامَ أَنْ يَضْطَجِعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ ، ثُمَّ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَرَبَّ الْأَرْضِ ، وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ، رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى وَمُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْفُرْقَانِ ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ ، وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ ، اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ وَأَغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ " وَكَانَ يَرْوِي ذَلِكَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،
سہل سے روایت ہے، کہا جب ہم میں سے کوئی سونے لگتا تو ابوصالح کہتے داہنی کروٹ پر سوؤ اور یہ دعا پڑھو ” «اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ وَرَبَّ الأَرْضِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَىْءٍ فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى وَمُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالإِنْجِيلِ وَالْفُرْقَانِ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَىْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ اللَّهُمَّ أَنْتَ الأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَىْءٌ وَأَنْتَ الآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَىْءٌ وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَىْءٌ وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَىْءٌ اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ وَأَغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ» یعنی اے مالک آسمانوں کے اور مالک زمین کے اور مالک بڑے عرش کے اور مالک ہمارے اور مالک پر چیز کے، چیرنے والے دانے اور گھٹلی کے (درخت اگانے کے لیے) اور اتارنے والے تورات اور انجیل اور قرآن کے، پناہ مانگتا ہوں میں تیری ہر چیز کے شر سے جس کی پیشانی تو تھامے ہے (یعنی تیرے اختیار میں ہے) تو سب سے پہلے ہے تجھ سے پہلے کوئی شے نہیں تو سب کے بعد ہے تیرے بعد کوئی شے نہیں، (یعنی ازلی اور ابدی ہے) تو ظاہر ہے تیرے اوپر کوئی شے نہیں، تو باطن ہے (یعنی لوگوں کی نظر سے چھپا ہوا) تجھ سے ورے کوئی شے نہیں، (یعنی تجھ سے زیادہ چھپی ہوئی) ادا کر دے قرض ہمارے اور امیر کر دے ہم کو محتاجی دور کر کے۔“ ابوصالح اس دعا کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے تھے اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ سے۔
صحیح مسلم حدیث ۶۸۸۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں سوتے وقت دائیں کروٹ پر لیٹنے اور ایک جامع دعا پڑھنے کی تعلیم ہے۔ دعا میں اللہ کو آسمانوں، زمین، عرش عظیم اور ہر چیز کا رب کہا گیا ہے۔ پھر اللہ کی قدرت کا ذکر ہے کہ وہ دانے اور گھٹلی کو پھاڑنے والا ہے، اور تورات، انجیل اور فرقان نازل کرنے والا ہے۔ بندہ ہر چیز کے شر سے اللہ کی پناہ مانگتا ہے، کیونکہ ہر مخلوق اللہ کے قبضے میں ہے۔ پھر اللہ کے ناموں کا ذکر ہے: اول، آخر، ظاہر اور باطن۔ آخر میں بندہ کہتا ہے: اے اللہ! ہمارا قرض ادا کر دے اور ہمیں فقر سے بے نیاز فرما۔ یہ قرض کی دعا اور فقر سے بچاؤ کی دعا انسان کو اللہ کے سامنے عاجز بناتی ہے اور اپنی ضرورت اسی کے در پر رکھنے کی تعلیم دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سوتے وقت دائیں کروٹ پر لیٹنے کی تعلیم آئی ہے۔
- قرض اور فقر کے معاملے میں اللہ سے دعا کرنی چاہیے۔
- ہر مخلوق اللہ کے اختیار میں ہے۔
- دعا میں اللہ کی تعریف کے بعد اپنی حاجت مانگی گئی ہے۔
