صحیح مسلم حدیث ۶۸۸۸ - جان کی حفاظت اور عافیت کی دعا
جان کی حفاظت اور عافیت کی دعا سونے سے پہلے
صحیح مسلم : ۶۸۸۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۸۸۸
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خَالِدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ أَمَرَ رَجُلًا إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ قَالَ : " اللَّهُمَّ خَلَقْتَ نَفْسِي وَأَنْتَ تَوَفَّاهَا لَكَ مَمَاتُهَا وَمَحْيَاهَا ، إِنْ أَحْيَيْتَهَا فَاحْفَظْهَا وَإِنْ أَمَتَّهَا فَاغْفِرْ لَهَا ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ " ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : أَسَمِعْتَ هَذَا مِنْ عُمَرَ ؟ ، فَقَالَ : مِنْ خَيْرٍ مِنْ عُمَرَ ، مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ ابْنُ نَافِعٍ فِي رِوَايَتِهِ : عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ سَمِعْتُ .
عبداللہ بن عمر روایت:
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک شخص کو سوتے وقت یہ کہا پڑنے کو ” «اللَّهُمَّ خَلَقْتَ نَفْسِى وَأَنْتَ تَوَفَّاهَا لَكَ مَمَاتُهَا وَمَحْيَاهَا إِنْ أَحْيَيْتَهَا فَاحْفَظْهَا وَإِنْ أَمَتَّهَا فَاغْفِرْ لَهَا اللَّهُمَّ إِنِّى أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ» یعنی یا اللہ! تو نے میری جان کو پیدا کیا اور تو ہی مارے گا اور تیرے لیے ہے جینا اور مرنا اگر تو جلا دے اس کو تو اپنی حفاظت میں رکھ اور جو مارے تو بخش دے اس کو۔ یا اللہ! میں تندرستی چاہتا ہوں تجھ سے۔“ ایک شخص ان سے بولا: آپ نے یہ دعا عمر رضی اللہ عنہ سے سنی؟ انہوں نے کہا: ان سے سنی جو عمر رضی اللہ عنہ سے بہتر تھے یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
صحیح مسلم حدیث ۶۸۸۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک شخص کو سوتے وقت یہ دعا پڑھنے کی تعلیم دی کہ اے اللہ! تو نے میری جان کو پیدا کیا اور تو ہی اسے وفات دے گا۔ اس کی زندگی اور موت تیرے لیے ہے۔ اگر تو اسے زندہ رکھے تو اس کی حفاظت فرما، اور اگر اسے وفات دے تو اسے بخش دے۔ پھر دعا میں عافیت مانگی گئی۔ جب پوچھا گیا کہ کیا یہ دعا عمر رضی اللہ عنہ سے سنی ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ عمر سے بہتر یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ یہ سونے کی دعا بندے کو اپنی جان کے بارے میں عاجزی سکھاتی ہے۔ انسان سمجھتا ہے کہ میری زندگی بھی میری نہیں، موت بھی میرے اختیار میں نہیں، اس لیے حفاظت، مغفرت اور عافیت اللہ ہی سے مانگنی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- زندگی اور موت اللہ کے اختیار میں ہیں۔
- سوتے وقت حفاظت اور مغفرت کی دعا مانگنی چاہیے۔
- عافیت مانگنا نبی صلى الله عليه وسلم کی تعلیم میں شامل ہے۔
- دعا کے الفاظ صحابہ نے نبی صلى الله عليه وسلم سے سیکھے۔
