صحیح مسلم حدیث ۶۹۶۸ - ذکر، جنت و دوزخ کی یاد
ذکر اور آخرت کی یاد: دل کی کیفیت کا بدلنا
صحیح مسلم : ۶۹۶۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۹۶۸
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ حَنْظَلَةَ التَّمِيمِيِّ الْأُسَيِّدِيِّ الْكَاتِبِ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَّرَنَا الْجَنَّةَ وَالنَّارَ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمَا .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ باب: اللہ تعالیٰ کی وسعت رحمت کا بیان اور رحمت غصہ سے زیادہ ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۶۹۶۸ کا خلاصہ
یہ روایت سیدنا حنظلہ رضی اللہ عنہ والی بات کو مختصر طور پر بیان کرتی ہے۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، آپ نے جنت اور دوزخ کی یاد دلائی، پھر اسی طرح کا واقعہ پیش آیا جس میں گھر، اہل و عیال اور کاموں میں لگنے کے بعد دل کی کیفیت بدل گئی۔ اس حدیث کا اصل موضوع ذکر اور آخرت کی یاد ہے۔ جب انسان نصیحت سنتا ہے تو دل پر اثر ہوتا ہے، لیکن معمول کی زندگی میں مشغول ہونے سے وہ کیفیت کم ہو سکتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم نے اس بات کو فطری انداز میں سمجھایا کہ ایک وقت یاد کا ہوتا ہے اور ایک وقت دنیاوی کاموں کا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جنت اور دوزخ کی یاد دل کو سنجیدہ کرتی ہے۔
- دنیاوی کاموں میں لگنے سے کیفیت بدل سکتی ہے۔
- ذکر کا وقت بھی ضروری ہے اور جائز گھریلو کام بھی زندگی کا حصہ ہیں۔
- اپنے دینی حال کے بارے میں فکر کرنا اچھی بات ہے، مگر رہنمائی بھی لینی چاہیے۔
