صحیح مسلم حدیث ۶۹۶۹ - اللہ کی رحمت غضب پر غالب ہے
اللہ کی رحمت کی حدیث: میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے
صحیح مسلم : ۶۹۶۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۹۶۹
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ كَتَبَ فِي كِتَابِهِ ، فَهُوَ عِنْدَهُ فَوْقَ الْعَرْشِ إِنَّ رَحْمَتِي تَغْلِبُ غَضَبِي " .
سیدنا ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کو بنایا تو اپنی کتاب میں لکھا اور وہ کتاب اس کے پاس ہے عرش کے اوپر کہ میری رحمت غضب پر غالب ہو گی۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۹۶۹ کا خلاصہ
یہ اللہ کی رحمت کی حدیث بندے کے دل میں امید پیدا کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کو بنایا تو اپنی کتاب میں لکھا، اور وہ کتاب اس کے پاس عرش کے اوپر ہے، کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہو گی۔ حدیث کا اصل پیغام اللہ کی رحمت ہے۔ اس میں بندے کو یہ یاد دلایا گیا ہے کہ اللہ کی رحمت بہت بڑی ہے۔ مگر متن میں غضب کا ذکر بھی آیا ہے، اس لیے بندے کو امید کے ساتھ سنجیدگی بھی رکھنی چاہیے۔ یہ حدیث اللہ کے بارے میں حسن ظن، توبہ، استغفار اور رحمت کی امید کو مضبوط کرتی ہے، مگر گناہ پر بے خوفی نہیں سکھاتی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع ہے۔
- حدیث میں رحمت کو غضب پر غالب بتایا گیا ہے۔
- بندے کو اللہ کی رحمت سے امید رکھنی چاہیے۔
- امید کے ساتھ اللہ کے سامنے سنجیدگی بھی ضروری ہے۔
