صحیح مسلم حدیث ۶۹۸۰ - خوف خدا اور بخشش
خوف خدا کی حدیث: اللہ نے ڈرنے والے بندے کو بخش دیا
صحیح مسلم : ۶۹۸۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۹۸۰
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقِ بْنِ بِنْتِ مَهْدِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " قَالَ رَجُلٌ : لَمْ يَعْمَلْ حَسَنَةً قَطُّ لِأَهْلِهِ إِذَا مَاتَ فَحَرِّقُوهُ ثُمَّ اذْرُوا نِصْفَهُ فِي الْبَرِّ ، وَنِصْفَهُ فِي الْبَحْرِ ، فَوَاللَّهِ لَئِنْ قَدَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ لَيُعَذِّبَنَّهُ عَذَابًا لَا يُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ ، فَلَمَّا مَاتَ الرَّجُلُ فَعَلُوا مَا أَمَرَهُمْ ، فَأَمَرَ اللَّهُ الْبَرَّ فَجَمَعَ مَا فِيهِ ، وَأَمَرَ الْبَحْرَ فَجَمَعَ مَا فِيهِ ، ثُمَّ قَالَ : لِمَ فَعَلْتَ هَذَا ؟ قَالَ : مِنْ خَشْيَتِكَ يَا رَبِّ وَأَنْتَ أَعْلَمُ فَغَفَرَ اللَّهُ لَهُ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص نے کبھی کوئی نیکی نہیں کی تھی، وہ جو مرنے لگا تو اپنے لوگوں سے بولا: مجھے جلا کر راکھ کر دینا، پھر آدھی راکھ جنگل میں اڑا دینا اور آدھی سمندر میں، کیونکہ اللہ کی قسم! اگر اللہ مجھ کو پائے گا تو ایسا عذاب کرے گا کہ ویسا عذاب دنیا میں کسی کو نہیں کرنے کا۔ جب وہ شخص مر گیا اس کے لوگوں نے ایسا ہی کیا، اللہ تعالیٰ نے جنگل کو حکم دیا اس نے سب راکھ اکٹھی کر دی پھر سمندر کو حکم دیا اس نے بھی اکٹھی کر دی، پھر پروردگار نے اس شخص سے فرمایا: تو نے ایسا کیوں کیا؟ وہ بولا: تیرے ڈر سے اے پروردگار اور تو خوب جانتا ہے، پروردگار نے اس کو بخشش دیا۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۹۸۰ کا خلاصہ
یہ خوف خدا کی حدیث ایک شخص کا واقعہ بیان کرتی ہے جس نے کبھی کوئی نیکی نہیں کی تھی۔ مرنے کے وقت اس نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ اسے جلا کر راکھ کر دیں، پھر آدھی راکھ جنگل میں اور آدھی سمندر میں اڑا دیں۔ اس نے کہا کہ اگر اللہ اسے پائے گا تو سخت عذاب دے گا۔ جب وہ مر گیا تو گھر والوں نے ایسا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے جنگل اور سمندر کو حکم دیا، دونوں نے اس کی راکھ جمع کر دی۔ پھر اللہ نے پوچھا کہ تو نے ایسا کیوں کیا؟ اس نے کہا: اے رب! تیرے ڈر سے، اور تو خوب جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا۔ حدیث میں اللہ کے خوف اور مغفرت کا ذکر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کا خوف بندے کے دل کی ایک بڑی کیفیت ہے۔
- اللہ تعالیٰ بکھری ہوئی راکھ کو بھی جمع کرنے پر قادر ہے۔
- اس شخص کی بخشش کا سبب متن کے مطابق اللہ کا خوف بتایا گیا ہے۔
- بندے کو اللہ سے ڈر بھی رکھنا چاہیے اور اس کی رحمت سے امید بھی۔
