صحیح مسلم حدیث ۶۹۷۹ - اللہ کی رحمت اور عذاب کا توازن

خوف اور امید کی حدیث: اللہ کی رحمت بھی، عذاب بھی

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۹۷۹

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ جَمِيعًا ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَوْ يَعْلَمُ الْمُؤْمِنُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الْعُقُوبَةِ مَا طَمِعَ بِجَنَّتِهِ أَحَدٌ ، وَلَوْ يَعْلَمُ الْكَافِرُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الرَّحْمَةِ مَا قَنَطَ مِنْ جَنَّتِهِ أَحَدٌ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر مومن کو معلوم ہو جو اللہ کے پاس عذاب ہے البتہ جنت کی طمع کوئی نہ کرے اور کافر کو اگر معلوم ہو جو اللہ کے پاس رحمت ہے البتہ اس کی جنت سے کوئی ناامید نہ ہو۔“

صحیح مسلم حدیث ۶۹۷۹ کا خلاصہ

یہ حدیث خوف اور امید کے توازن کو بہت صاف انداز میں بیان کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر مومن کو اللہ کے پاس عذاب کا علم ہو جائے تو کوئی جنت کی طمع نہ کرے، اور اگر کافر کو اللہ کے پاس رحمت کا علم ہو جائے تو کوئی جنت سے ناامید نہ ہو۔ اس حدیث میں دو باتیں ساتھ ساتھ آئی ہیں: اللہ کا عذاب بھی حق ہے اور اللہ کی رحمت بھی بہت وسیع ہے۔ اس سے بندے کو نہ تو بے خوف ہونا چاہیے، نہ مایوس۔ ایمان والا اللہ کی پکڑ کو یاد رکھے، اور اللہ کی رحمت سے امید بھی رکھے۔ یہی توازن بندے کو سنجیدگی اور رجوع دونوں سکھاتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ کے عذاب کو یاد رکھنا بندے کو سنجیدہ کرتا ہے۔
  • اللہ کی رحمت سے ناامید نہیں ہونا چاہیے۔
  • خوف اور امید دونوں بندے کی زندگی میں ضروری ہیں۔
  • حدیث بے خوفی یا مایوسی دونوں سے بچاتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں