صحیح مسلم حدیث ۷۰۱۳ - مغفرت کی روایت کی تائید
آخرت میں مغفرت کی امید: ایک تائیدی روایت
صحیح مسلم : ۷۰۱۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۰۱۳
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى جميعا ، عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ عَفَّانَ ، وَقَالَ عَوْنُ بْنُ عُتْبَةَ .
ابوقتادہ سے اس سند کے ساتھ عفان کی روایت کی طرح مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۷۰۱۳ کا خلاصہ
یہ حدیث پچھلی روایت کے معنی کی تائید میں آئی ہے۔ متن میں تفصیل کم ہے، مگر بتایا گیا کہ اسی سند کے ساتھ عفان کی روایت کی طرح بیان ہوا۔ اس کا مرکزی موضوع مسلمان کی مغفرت، آخرت کی نجات اور اللہ کی رحمت ہے۔ جب ایک ہی معنی مختلف سندوں سے بیان ہو تو پڑھنے والے کو اصل پیغام پر توجہ رکھنی چاہیے، یعنی آخرت کا معاملہ بہت بڑا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ جیسے چاہے فیصلہ فرماتا ہے۔ اس حدیث کو پڑھ کر مسلمان کے دل میں امید پیدا ہوتی ہے، مگر یہ بھی یاد رہتا ہے کہ بندے کو دنیا میں ایمان، توبہ اور نیک عمل کی کوشش کرنی ہے۔ حدیث امید دیتی ہے، غفلت نہیں سکھاتی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث کی تائیدی روایت اصل معنی کو مزید واضح کرتی ہے۔
- آخرت میں نجات اللہ کی رحمت اور فیصلے سے وابستہ ہے۔
- مومن کو امید اور خوف دونوں کے ساتھ زندگی گزارنی چاہیے۔
- بشارت سن کر عمل سے دور ہونا درست نتیجہ نہیں۔
