صحیح مسلم حدیث ۷۰۱۲ - مسلمان کی مغفرت کی بشارت
مسلمان کی مغفرت اور آخرت کی امید
صحیح مسلم : ۷۰۱۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۰۱۲
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، أَنَّ عَوْنًا وَسَعِيدَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ حَدَّثَاهُ أَنَّهُمَا شَهِدَا أَبَا بُرْدَةَ يُحَدِّثُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَمُوتُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ إِلَّا أَدْخَلَ اللَّهُ مَكَانَهُ النَّارَ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا " ، قَالَ : فَاسْتَحْلَفَهُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَحَلَفَ لَهُ ، قَالَ : فَلَمْ يُحَدِّثْنِي سَعِيدٌ أَنَّهُ اسْتَحْلَفَهُ ، وَلَمْ يُنْكِرْ عَلَى عَوْنٍ قَوْلَهُ ،
سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایتے ہے، عون اور سعید بن ابی بردہ اس وقت موجود تھے جب ابوبردہ نے عمر بن عبدالعزیز سے حدیث بیان کی اپنے باپ (سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) سے سن کر کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی مسلمان نہیں مرے گا مگر اللہ تعالیٰ اس کی جگہ پر ایک یہودی یا نصرانی کو جہنم میں داخل کرے گا۔“ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ابوبردہ کو قسم دی کہ کیا تیرے باپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تجھے بیان کیا ہے؟ انہوں نے قسم اٹھائی۔ (عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ابوبردہ کو قسم دی مزید اطمینان کے لیے کیونکہ اس حدیث میں بشارت عظیم ہے مومنوں کے لیے۔ شافعی رحمہ اللہ نے کہا کہ اس حدیث سے مسلمانوں کو بڑی امید ہے)۔
صحیح مسلم حدیث ۷۰۱۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں بیان ہے کہ کوئی مسلمان نہیں مرے گا مگر اللہ تعالیٰ اس کی جگہ ایک یہودی یا نصرانی کو جہنم میں داخل کرے گا۔ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اس روایت کی اہمیت کی وجہ سے ابوبردہ سے قسم لے کر تصدیق چاہی۔ حدیث کا موضوع آخرت، مغفرت اور اللہ کی رحمت ہے۔ اس طرح کی روایت کو نہایت ادب کے ساتھ سمجھنا چاہیے، کیونکہ اس میں اللہ کے فیصلے کا ذکر ہے۔ بندہ اپنی طرف سے کسی کے بارے میں فیصلہ نہیں کر سکتا، بلکہ اپنے ایمان، عمل اور توبہ کی فکر کرتا ہے۔ حدیث مسلمان کے دل میں امید پیدا کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے بندوں کے ساتھ رحمت کا معاملہ فرما سکتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- آخرت کے معاملات اللہ کے علم اور فیصلے سے متعلق ہیں۔
- مومن کو اللہ کی مغفرت کی امید رکھنی چاہیے۔
- اہم روایت سن کر تحقیق اور اطمینان لینا درست ہو سکتا ہے۔
- امید کے ساتھ عمل اور توبہ کی فکر بھی ضروری ہے۔
