صحیح مسلم حدیث ۷۰۱۱ - قیامت کے دن نجات

قیامت کے دن مسلمان کے لیے جہنم سے نجات

صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۰۱۱

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ دَفَعَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى كُلِّ مُسْلِمٍ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا ، فَيَقُولُ : هَذَا فِكَاكُكَ مِنَ النَّارِ " .

ابوموسیٰ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب قیامت کا دن ہو گا تو اللہ تعالیٰ ہر ایک مسلمان کو ایک یہودی یا نصرانی دے گا اور فرما دے گا: یہ تیرا چھٹکارا ہے جہنم سے۔“

صحیح مسلم حدیث ۷۰۱۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو ایک یہودی یا نصرانی دے گا اور فرمائے گا کہ یہ تیرا چھٹکارا ہے جہنم سے۔ یہ حدیث آخرت، مغفرت اور نجات کے موضوع سے متعلق ہے۔ اس میں جو بات آئی ہے، اسے اسی الفاظ کے دائرے میں سمجھنا چاہیے، یعنی اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے فیصلے کے مطابق بندوں کے ساتھ معاملہ فرمائے گا۔ حدیث کا مقصد بندے میں امید پیدا کرنا ہے، مگر اس سے عمل میں سستی کا نتیجہ نہیں نکالنا چاہیے۔ مومن کے لیے اصل راستہ ایمان، توبہ اور اللہ کی رحمت پر امید رکھنا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قیامت کے دن نجات اللہ کے فیصلے اور رحمت سے وابستہ ہے۔
  • مومن کو اللہ کی رحمت سے امید رکھنی چاہیے۔
  • حدیث میں آخرت کی جواب دہی کا احساس بھی موجود ہے۔
  • بشارت کو عمل چھوڑنے کا بہانہ نہیں بنانا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں