صحیح مسلم حدیث ۷۰۱۰ - توبہ میں اللہ کی رحمت
توبہ کرنے والے کے لیے اللہ کی رحمت
صحیح مسلم : ۷۰۱۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۰۱۰
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ، وَزَادَ فِيهِ ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَى هَذِهِ أَنْ تَبَاعَدِي وَإِلَى هَذِهِ أَنْ تَقَرَّبِي .
قتادہ روایت:
قتادہ نے اسی سند کے ساتھ معاذ کی حدیث کی طرح بیان کیا ہے اور اس میں اتنا زیادہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے گناہ کی زمین کی طرف حکم بھیجا کہ دور ہو جا اور عبادت کی زمین کو حکم ہوا کہ تو قریب ہو جا۔ باب: مسلمانوں کا فدیہ کافر ہوں گے
صحیح مسلم حدیث ۷۰۱۰ کا خلاصہ
اس روایت میں پچھلے واقعے کی ایک خاص بات بیان ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے گناہ والی زمین کو حکم دیا کہ دور ہو جا، اور عبادت والی زمین کو حکم دیا کہ قریب ہو جا۔ یہ بات حدیث کے اندر توبہ کرنے والے شخص کے معاملے میں آئی ہے، جو برے علاقے کو چھوڑ کر نیک لوگوں کی بستی کی طرف جا رہا تھا۔ حدیث کا اصل موضوع توبہ اور اللہ کی رحمت ہے۔ اس میں یہ سبق ملتا ہے کہ بندہ جب سچی نیت سے اللہ کی طرف لوٹتا ہے اور اپنی زندگی کا رخ بدلتا ہے تو اس کے لیے رحمت کا معاملہ ہو سکتا ہے۔ اس روایت کو امید کا پیغام سمجھنا چاہیے، مگر ساتھ ہی گناہ سے نکلنے کی عملی کوشش کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سچی توبہ میں گناہ کے ماحول سے نکلنے کی کوشش شامل ہو سکتی ہے۔
- اللہ کی رحمت توبہ کرنے والے بندے کے لیے بہت وسیع ہے۔
- نیک لوگوں کی طرف قدم بڑھانا اصلاح کا اچھا راستہ ہے۔
- حدیث ہمیں مایوسی کے بجائے اللہ کی طرف رجوع سکھاتی ہے۔
