صحیح مسلم حدیث ۷۰۰۹ - نیک بستی کی طرف سفر
توبہ کے بعد نیک ماحول کی طرف جانا
صحیح مسلم : ۷۰۰۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۰۰۹
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الصِّدِّيقِ النَّاجِيَّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّ رَجُلًا قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا ، فَجَعَلَ يَسْأَلُ هَلْ لَهُ مِنْ تَوْبَةٍ ؟ ، فَأَتَى رَاهِبًا فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : لَيْسَتْ لَكَ تَوْبَةٌ ، فَقَتَلَ الرَّاهِبَ ، ثُمَّ جَعَلَ يَسْأَلُ ثُمَّ خَرَجَ مِنْ قَرْيَةٍ إِلَى قَرْيَةٍ فِيهَا قَوْمٌ صَالِحُونَ ، فَلَمَّا كَانَ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ ، فَنَأَى بِصَدْرِهِ ثُمَّ مَاتَ ، فَاخْتَصَمَتْ فِيهِ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ وَمَلَائِكَةُ الْعَذَابِ ، فَكَانَ إِلَى الْقَرْيَةِ الصَّالِحَةِ أَقْرَبَ مِنْهَا بِشِبْرٍ ، فَجُعِلَ مِنْ أَهْلِهَا " ،
ابو سعید خدری روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص نے ننانوے آدمیوں کو مارا، پھر پوچھنے لگا: میری توبہ صحیح ہو سکتی ہے؟ اور ایک راہب کے پاس آیا اس سے پوچھا: وہ بولا: تیری توبہ صحیح نہیں۔ اس نے راہب کو بھی مار ڈالا۔ پھر لگا پوچھنے: اور ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں کی طرف چلا جہاں نیک لوگ رہتے تھے راستہ میں اس کو موت آئی تو اپنا سینہ آگے بڑھایا اور مر گیا، پھر جھگڑا کیا اس میں رحمت کے فرشتوں اور عذاب کے فرشتوں نے لیکن وہ اچھے گاؤں کی طرف نزدیک نکلا تو انہی لوگوں میں کیا گیا۔“
صحیح مسلم حدیث ۷۰۰۹ کا خلاصہ
اس روایت میں بھی اسی توبہ کرنے والے شخص کا ذکر ہے جس نے ننانوے آدمیوں کو قتل کیا، پھر توبہ کا راستہ پوچھا۔ راہب نے اسے امید نہ دی، پھر وہ پوچھتا رہا اور ایک ایسی بستی کی طرف نکلا جہاں نیک لوگ رہتے تھے۔ راستے میں موت آئی تو اس نے اپنا سینہ آگے بڑھایا، گویا وہ نیک بستی کے قریب ہونا چاہتا تھا۔ پھر رحمت کے فرشتوں اور عذاب کے فرشتوں میں گفتگو ہوئی، اور وہ نیک بستی کی طرف قریب پایا گیا۔ حدیث کا موضوع سچی توبہ، نیک صحبت اور نیک ماحول ہے۔ اس میں یہ بات بھی سمجھ آتی ہے کہ توبہ صرف زبان کی بات نہیں، بلکہ آدمی اپنی سمت بدلتا ہے اور برے راستے سے نکلنے کی عملی کوشش کرتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- توبہ کے بعد ماحول بدلنا اصلاح میں مدد دیتا ہے۔
- نیک لوگوں کی طرف جانا اچھے ارادے کی نشانی ہو سکتا ہے۔
- آدمی کو امید کی تلاش میں صحیح رہنمائی جاری رکھنی چاہیے۔
- حدیث میں دل کے رجوع اور عملی قدم دونوں کا ذکر ہے۔
