صحیح مسلم حدیث ۷۰۱۵ - قیامت کی سرگوشی اور پردہ
قیامت کے دن مؤمن سے سرگوشی اور گناہوں کی بخشش
صحیح مسلم : ۷۰۱۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۰۱۵
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عُمَرَ : كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي النَّجْوَى ؟ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ ، يَقُولُ : " يُدْنَى الْمُؤْمِنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى يَضَعَ عَلَيْهِ كَنَفَهُ ، فَيُقَرِّرُهُ بِذُنُوبِهِ ، فَيَقُولُ : هَلْ تَعْرِفُ ؟ ، فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ أَعْرِفُ ، قَالَ : فَإِنِّي قَدْ سَتَرْتُهَا عَلَيْكَ فِي الدُّنْيَا ، وَإِنِّي أَغْفِرُهَا لَكَ الْيَوْمَ ، فَيُعْطَى صَحِيفَةَ حَسَنَاتِهِ ، وَأَمَّا الْكُفَّارُ وَالْمُنَافِقُونَ ، فَيُنَادَى بِهِمْ عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى اللَّهِ " .
صفوان بن محرز روایت:
ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا سنا ہے سرگوشی کے باب میں۔ (یعنی اللہ تعالیٰ جو قیامت کے دن اپنے بندہ سے سرگوشی کرے گا) انہوں نے کہا: میں نے آپ سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”مؤمن قیامت کے دن اپنے مالک کے پاس لایا جائے گا یہاں تک کہ مالک اپنا پردہ اس پر رکھ دے گا اور اس سے اقرار کروائے گا اس کے گناہوں کا اور کہے گا: ”تو پہچانتا ہے اپنے گناہوں کو؟“وہ کہے گا: اے رب میں پہچانتا ہوں۔ پروردگار فرمائے گا: ”تو میں نے چھپا دیا ان گناہوں کو تجھ پر دنیا میں اور اب میں بخش دیتا ہوں ان کو آج کے دن تیرے لیے۔“ پھر وہ نیکیوں کی کتاب دیا جائے گا اور کافر اور منافقوں کے لیے تو مخلوقات کے سامنے منادی ہو گی کہ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے جھوٹ بولا: اللہ تعالیٰ پر۔“
صحیح مسلم حدیث ۷۰۱۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں قیامت کے دن مؤمن کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے خاص معاملے کا ذکر ہے۔ مؤمن کو اس کے رب کے قریب کیا جائے گا، پھر اس پر پردہ رکھا جائے گا، اس سے اس کے گناہوں کا اقرار کرایا جائے گا، اور وہ کہے گا کہ اے رب میں پہچانتا ہوں۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے دنیا میں یہ گناہ تجھ پر چھپائے تھے اور آج انہیں تیرے لیے بخش دیتا ہوں۔ اس کے بعد اسے نیکیوں کی کتاب دی جائے گی۔ حدیث میں کافروں اور منافقوں کے لیے علانیہ پکار کا ذکر بھی ہے۔ اس حدیث کا موضوع اللہ کا پردہ، مغفرت اور قیامت کی جواب دہی ہے۔ یہ بندے کو امید بھی دیتی ہے اور گناہوں کے حساب کا احساس بھی دلاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دنیا میں اللہ کا پردہ بندے کے لیے بڑی نعمت ہے۔
- قیامت کے دن ہر انسان اپنے اعمال کے سامنے ہوگا۔
- مؤمن کے لیے اللہ کی مغفرت کا ذکر امید پیدا کرتا ہے۔
- گناہ چھپ جانے پر بے فکر نہیں، بلکہ توبہ کرنی چاہیے۔
