صحیح مسلم حدیث ۷۰۲۳ - بے بنیاد الزام کی حقیقت

بے بنیاد الزام کی حدیث: حقیقت سامنے آ جاتی ہے

صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۰۲۳

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ يُتَّهَمُ بِأُمِّ وَلَدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِعَلِيٍّ اذْهَبْ فَاضْرِبْ عُنُقَهُ " ، فَأَتَاهُ عَلِيٌّ ، فَإِذَا هُوَ فِي رَكِيٍّ يَتَبَرَّدُ فِيهَا ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : اخْرُجْ فَنَاوَلَهُ يَدَهُ فَأَخْرَجَهُ ، فَإِذَا هُوَ مَجْبُوبٌ لَيْسَ لَهُ ذَكَرٌ فَكَفَّ عَلِيٌّ عَنْهُ ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ لَمَجْبُوبٌ مَا لَهُ ذَكَرٌ " .

سیدنا انس روایت:

ایک شخص سے لوگ تہمت لگاتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حرم کو (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ام ولد لونڈی کو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”جا اور اس شخص کی گردن مار .“ (شاید وہ منافق ہو گا یا کسی اور وجہ سے قتل کے لائق ہو گا) سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس کے پاس گئے۔دیکھا تو وہ ٹھنڈک کے لیے ایک کنویں میں غسل کر رہا ہے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: نکل۔ اس نے اپنا ہاتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں دیا، انہوں نے اس کو باہر نکالا۔ دیکھا تو اس کا عضو تناسل کٹا ہوا ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کو نہ مارا۔ پھر رسول اللہ کے پاس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ تو مجبوب ہے (یعنی ذکر کٹا ہوا) اس کا ذکر ہی نہیں ہے (تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ یہی سمجھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زنا کے خیال سے اس کے قتل کا حکم دیا اس واسطے انہوں نے قتل نہ کیا اور شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی سے معلوم ہو گیا ہو گا کہ وہ قتل نہ کیا جائے گا پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قتل کا حکم دیا تاکہ اس کا حال کھل جائے اور لوگ اپنی تہمت پر نادم ہوں اور جھوٹ ان کا واضح ہو جائے)۔

صحیح مسلم حدیث ۷۰۲۳ کا خلاصہ

یہ حدیث ایک ایسے شخص کے بارے میں ہے جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ام ولد کے سلسلے میں تہمت لگائی جاتی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اس کے پاس بھیجا۔ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ وہاں پہنچے تو وہ شخص کنویں میں ٹھنڈک لے رہا تھا۔ اسے باہر نکالا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ مجبوب ہے، یعنی اس میں وہ جسمانی حالت ہی نہیں تھی جس کی بنا پر لوگ تہمت لگا رہے تھے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے نہ مارا اور واپس آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حقیقت بتائی۔ اس حدیث میں الزام، تہمت، حقیقت کی تحقیق اور جلد بازی سے بچنے کا صاف سبق ہے۔ انسان کو چاہیے کہ کسی کے بارے میں بات پھیلانے سے پہلے سچائی معلوم کرے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • کسی پر الزام لگانے سے پہلے حقیقت معلوم کرنا ضروری ہے۔
  • بعض اوقات سنی سنائی بات بالکل غلط نکلتی ہے۔
  • جب حقیقت سامنے آ جائے تو غلط کارروائی سے رک جانا چاہیے۔
  • لوگوں کی عزت کے بارے میں احتیاط بہت ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں