صحیح مسلم حدیث ۷۰۲۴ - منافقین کی باتیں اور سچائی

نفاق کی حدیث: عبداللہ بن ابی کی بات اور زید رضی اللہ عنہ کی سچائی

صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۰۲۴

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ ، يَقُولُ : " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ أَصَابَ النَّاسَ فِيهِ شِدَّةٌ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ لِأَصْحَابِهِ : لَا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّى يَنْفَضُّوا مِنْ حَوْلِهِ ، قَالَ زُهَيْرٌ : وَهِيَ قِرَاءَةُ مَنْ خَفَضَ حَوْلَهُ ، وَقَالَ : لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ ، قَالَ : فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ ، فَأَرْسَلَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ فَسَأَلَهُ فَاجْتَهَدَ يَمِينَهُ مَا فَعَلَ ، فَقَالَ : كَذَبَ زَيْدٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مِمَّا قَالُوهُ شِدَّةٌ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقِي إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ سورة المنافقون آية 1 ، قَالَ : ثُمَّ دَعَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَسْتَغْفِرَ لَهُمْ ، قَالَ : فَلَوَّوْا رُءُوسَهُمْ ، وقَوْله كَأَنَّهُمْ خُشُبٌ مُسَنَّدَةٌ سورة المنافقون آية 4 ، وَقَالَ : كَانُوا رِجَالًا أَجْمَلَ شَيْءٍ " .

سیدنا زید بن ارقم روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم ایک سفر میں نکلے، جس میں لوگوں کو بہت تکلیف ہوئی (کھانے اور پینے کی) عبداللہ بن ابی (منافق) نے اپنے یاروں سے کہا: ان لوگوں کو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہیں کچھ مت دو یہاں تک کہ وہ بھاگ نکلیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے۔زہیر نے کہا: یہ قرأت ہے اس شخص کی جس نے «من حوله» پڑھا ہے (اور یہی قرأت مشہور ہے اور قرأت شاذ «من حوله» ہے یعنی یہاں تک کہ بھاگ جائیں وہ لوگ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد ہیں) اور عبداللہ بن ابی نے کہا: اگر ہم مدینہ کو لوٹیں گے تو البتہ عزت والا (مردود نے اپنے تئیں عزت والا قرار دیا) نکال دے گا ذلت والے کو (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ذلت والا قرار دیا مردود نے) میں یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی کے پاس کہلا بھیجا اور پچھوایا اس سے۔ اس نے قسم کھائی کہ میں نے ایسا نہیں کہا اور بولا: کہ زید نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جھوٹ بولا، اس بات سے میرے دل کو بہت رنج ہوا، یہاں تک کہ اللہ نے مجھ کو سچا کیا اور سورہ «إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ» اتری، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بلایا ان کے لیے دعا کرنے کو مغفرت کی لیکن انہوں نے اپنے سر موڑ لیے (یعنی نہ آئے) اور اللہ نے ان کے حق میں فرمایا ہے: «كَأَنَّهُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ» ”گویا وہ لکڑیاں ہیں دیوار سے ٹکائی ہوئیں۔“ زید نے کہا: وہ لوگ ظاہر میں خوب اور اچھے معلوم ہوتے تھے۔

صحیح مسلم حدیث ۷۰۲۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں سفر کے دوران پیش آنے والا واقعہ بیان ہوا ہے۔ لوگوں کو سختی تھی، اس وقت عبداللہ بن ابی نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہنے والوں پر خرچ نہ کرو، تاکہ وہ آپ کے گرد سے الگ ہو جائیں۔ اس نے یہ بھی کہا کہ مدینہ واپس پہنچ کر عزت والا ذلت والے کو نکال دے گا۔ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی۔ عبداللہ بن ابی نے قسم کھا کر انکار کیا اور زید رضی اللہ عنہ کو جھوٹا کہا۔ زید رضی اللہ عنہ کو سخت رنج ہوا، پھر اللہ تعالیٰ نے سورہ منافقون نازل فرما کر ان کی سچائی ظاہر کر دی۔ یہ نفاق کی حدیث، منافقین کی پہچان اور سچ بولنے کی ہمت کا واضح سبق ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نفاق کی ایک صورت یہ ہے کہ آدمی دل میں کچھ رکھے اور زبان سے کچھ اور کہے۔
  • سچ بولنے والے کو وقتی تکلیف ہو سکتی ہے، مگر سچ چھپتا نہیں۔
  • دین والوں کو مالی دباؤ سے توڑنے کی کوشش منافقانہ رویہ ہے۔
  • ظاہری خوب صورتی یا شان سچی نیکی کی دلیل نہیں بنتی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں