صحیح مسلم حدیث ۷۰۳۵ - امت میں بارہ منافق

بارہ منافقین کی حدیث: نفاق کے انجام کی سخت تنبیہ

صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۰۳۵

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَمَّارٍ أَرَأَيْتُمْ صَنِيعَكُمْ هَذَا الَّذِي صَنَعْتُمْ فِي أَمْرِ عَلِيٍّ أَرَأْيًا رَأَيْتُمُوهُ أَوْ شَيْئًا عَهِدَهُ إِلَيْكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، فَقَالَ : مَا عَهِدَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا لَمْ يَعْهَدْهُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً ، وَلَكِنْ حُذَيْفَةُ أَخْبَرَنِي ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فِي أَصْحَابِي اثْنَا عَشَرَ مُنَافِقًا ، فِيهِمْ ثَمَانِيَةٌ لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ ثَمَانِيَةٌ مِنْهُمْ تَكْفِيكَهُمُ الدُّبَيْلَةُ وَأَرْبَعَةٌ " ، لَمْ أَحْفَظْ مَا قَالَ شُعْبَةُ فِيهِمْ .

قیس روایت:

میں نے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: (سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ جنگ صفین میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف تھے) تم نے جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے مقدمہ میں (یعنی ان کا ساتھ دیا اور لڑے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے) یہ تمہاری رائے ہے یا تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس باب میں کچھ فرمایا تھا . سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے کوئی بات ایسی نہیں فرمائی جو اور عام لوگوں سے نہ فرمائی ہو لیکن سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے اصحاب میں بارہ منافق ہیں ان میں سے آٹھ جنت میں نہ جائیں گے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں گھسے .“ (یعنی ان کا جنت میں جانا محال ہے) اور آٹھ کو ان میں سے دبیلہ سمجھ لے گا (دبیلہ پھوڑا یا دمل) اور چار کے باب میں اسود یہ کہتا ہے جو راوی ہے اس حدیث کا کہ مجھے یاد نہ رہا شعبہ نے کیا کہا:۔

صحیح مسلم حدیث ۷۰۳۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں قیس نے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے معاملے میں آپ کا عمل اپنی رائے سے تھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی خاص بات فرمائی تھی؟ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کوئی ایسی بات خاص طور پر نہیں بتائی جو عام لوگوں کو نہ بتائی ہو۔ پھر انہوں نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی روایت بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے اصحاب میں بارہ منافق ہیں، ان میں سے آٹھ جنت میں نہ جائیں گے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہو۔ حدیث میں دبیلہ کا ذکر بھی ہے۔ یہ نفاق کی حدیث، منافقین کا انجام اور صحابہ کی احتیاط کو بیان کرتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دینی معاملات میں اپنی بات کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنے میں احتیاط چاہیے۔
  • نفاق کا انجام حدیث میں بہت سخت الفاظ میں بیان ہوا ہے۔
  • صحابہ کرام بات پوچھتے اور جواب میں امانت کا خیال رکھتے تھے۔
  • ہر دعویٰ دلیل کے ساتھ ہونا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں