حدیث ۷۰۳۷
صحیح مسلم : ۷۰۳۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۰۳۷
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْكُوفِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ جُمَيْعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الطُّفَيْلِ ، قَالَ : كَانَ بَيْنَ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْعَقَبَةِ وَبَيْنَ حُذَيْفَةَ بَعْضُ مَا يَكُونُ بَيْنَ النَّاسِ ، فَقَالَ " أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ كَمْ كَانَ أَصْحَابُ الْعَقَبَةِ ؟ قَالَ : فَقَالَ لَهُ : الْقَوْمُ أَخْبِرْهُ إِذْ سَأَلَكَ ، قَالَ : كُنَّا نُخْبَرُ أَنَّهُمْ أَرْبَعَةَ عَشَرَ ، فَإِنْ كُنْتَ مِنْهُمْ فَقَدْ كَانَ الْقَوْمُ خَمْسَةَ عَشَرَ وَأَشْهَدُ بِاللَّهِ أَنَّ اثْنَيْ عَشَرَ مِنْهُمْ حَرْبٌ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ، وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ وَعَذَرَ ثَلَاثَةً ، قَالُوا : مَا سَمِعْنَا مُنَادِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا عَلِمْنَا بِمَا أَرَادَ الْقَوْمُ ، وَقَدْ كَانَ فِي حَرَّةٍ فَمَشَى ، فَقَالَ : إِنَّ الْمَاءَ قَلِيلٌ فَلَا يَسْبِقْنِي إِلَيْهِ أَحَدٌ ، فَوَجَدَ قَوْمًا قَدْ سَبَقُوهُ فَلَعَنَهُمْ يَوْمَئِذٍ " .
ابوالطفیل سے روایت ہے کہ عقبہ کے لوگوں میں سے ایک شخص اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے درمیان کچھ جھگڑا تھا جیسے لوگوں میں ہوتا ہے۔ وہ بولا: میں تم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں اصحاب عقبہ کتنے تھے؟ لوگوں نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا: جب وہ پوچھتا ہے تو بتا دو اس کو۔ انہوں نے کہا: ہم کو خبر دی جاتی تھی (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے) کہ وہ (تیرے سوا) چودہ آدمی ہیں اگر تو بھی ان میں سے ہے تو وہ پندرہ ہیں اور میں قسمیہ کہتا ہوں کہ ان میں سے بارہ تو اللہ اور سول کے دنیا وآخرت میں دشمن ہیں اور باقی تینوں نے یہ عذر کیا (جب ان سے پوچھا گیا اور ملامت کی گئی کہ ہم نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی (کہ عقبہ کے راستے نہ آؤ) کی آواز بھی نہیں سنی اور نہ اس قوم کے ارادہ کی ہم خبر رکھتے ہیں اور (اس وقت) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سنگستان میں تھے پھر چلے اور فرمایا: ”(کہ اگلے پڑاؤ میں) تھوڑا پانی ہے تو مجھ سے پہلے کوئی آدمی پانی پر نہ جائے .“ (جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لے گئے) تو کچھ (منافق) وہاں پہنچ چکے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر اس دن لعنت فرمائی۔
